امامت کا فلسفہ
شیعہ نقطہ نظر سے امام کے وجود کی ضرورت اور اس کے خصائص (عصمت) کا تقابلی جائزہ
سورہ بقرہ کی آیت ۱۲۴ کے خصوصی مطالعے کے تناظر میں
الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد وآلہ الطاہرین۔
اسلامی عقائد میں امامت کا مقام انتہائی بلند اور حساس ہے، کیونکہ یہ اس سوال کا جواب دیتا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی رحلت کے بعد امتِ مسلمہ کی راہنمائی کس کے ذمے ہے۔ یہ محض ایک تاریخی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسا عقیدہ ہے جس نے صدیوں سے امت کو دو بڑے مکاتبِ فکر میں تقسیم کر رکھا ہے۔
اس تحقیق میں سورہ بقرہ کی آیت ۱۲۴ کو محور بنایا گیا ہے تاکہ شیعہ نقطہ نظر میں امامت کے الٰہی ہونے اور عصمت کی شرط کو واضح کیا جا سکے۔
لغوی و اصطلاحی تعریف
امام کا لغوی معنی
عربی زبان میں «امام» اس شخص کو کہتے ہیں جس کی پیروی کی جائے — خواہ نیکی میں ہو یا برائی میں۔ یہ لفظ «اُمّ» سے مشتق ہے جس کے معنی «قصد کرنا» یا «آگے بڑھنا» کے ہیں۔ لغوی اعتبار سے امام پیشوا، رہنما اور اسوہ (مثال) کے معنی دیتا ہے۔ المیزان، ج۱، ص۲۷۵
اصطلاحی تعریف: تقابلی جائزہ
| پہلو | اہل سنت نقطہ نظر | اہل تشیع نقطہ نظر |
|---|---|---|
| ماہیت | سیاسی و انتظامی عہدہ | الٰہی و روحانی منصب |
| تقرر | شوریٰ، اجماع یا قہر سے | اللہ کی طرف سے نص کے ذریعے |
| عصمت | شرط نہیں | لازمی شرط |
| دینی درجہ | فروع (عملی احکام) | اصول دین (بنیادی عقائد) |
| نوعیت | رسول ﷺ کی سیاسی جانشینی | نبوت کا تکملہ و باطنی ورثہ |
شیعہ متکلمین کے مطابق: «الإمامُ خَلِيفَةُ اللّٰهِ فِي أرضِهِ وَ حُجَّتُهُ عَلَيٰ عِبَادِهِ» — امام زمین پر اللہ کا خلیفہ اور اس کی مخلوق پر حجت ہے۔
اہل سنت کے ہاں امامت کا تصور
اہل سنت کے ہاں امامت (جسے وہ خلافت بھی کہتے ہیں) کا تصور زیادہ تر عملی اور سیاسی پہلوؤں پر مبنی ہے۔ ان کے نزدیک بنیادی آراء یہ ہیں:
-
۱سیاسی و سماجی عہدہ: خلافت کوئی الٰہی منصب نہیں بلکہ امت کی مصلحت کے لیے قائم ایک انتظامی ذمہ داری ہے۔ المواقف، ج۳، ص۲۶۵
-
۲تقرر کا طریقہ: انتخاب (شوریٰ)، عہد یا قہر و غلبے کے ذریعے — الٰہی نص کی ضرورت نہیں۔ شرح المواقف، ج۸، ص۲۴۵
-
۳عصمت غیر ضروری: امام میں عصمت شرط نہیں، البتہ عدل، علم اور اہلیت مطلوب ہے۔ الاقتصاد، ص۲۳۵
-
۴سیاسی جانشینی: یہ رسول ﷺ کی سیاسی جانشینی ہے، نبوت کی جانشینی نہیں۔ العقیدۃ الطحاویۃ، ص۸۹
امام کے وجود کی ضرورت — عقلی دلائل
شیعہ مکتب فکر میں امامت کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ «کوئی دور امام کے بغیر نہیں گزر سکتا۔» الکافی، ج۱، باب الاضطرار اس پر متعدد عقلی دلائل پیش کیے گئے ہیں:
۱۔ قاعدۂ لطف
اللہ تعالیٰ پر واجب ہے — یعنی اس کی حکمت کا تقاضا ہے — کہ وہ وہ سب کچھ کرے جو بندوں کو اطاعت کے قریب اور معصیت سے دور کرے۔ چونکہ پیغمبر ﷺ کے بعد امت کو رہنمائی کی ضرورت ہے، اس لیے اللہ نے معصوم امام کو مقرر فرمایا تاکہ دین میں تحریف نہ ہو سکے۔ کشف المراد، ص۳۶۵
علامہ حلی فرماتے ہیں: «جب ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ نے ہدایت کے لیے انبیاء بھیجے تو اسی حکمت کا تقاضا ہے کہ ان کے بعد بھی سلسلۂ ہدایت امام کے ذریعے جاری رہے۔»
۲۔ بقائے شریعت کا مسئلہ
جب پیغمبر ﷺ نے دین مکمل کر دیا سورہ مائدہ، ۳ تو اس مکمل شریعت کے تحفظ اور صحیح تفسیر کے لیے ایک ایسے عالم و رہنما کی ضرورت ہے جو خطا سے پاک ہو۔ عام انسان — خواہ کتنا ہی بڑا عالم ہو — خطا کا امکان رکھتا ہے۔ الکافی، ج۱، کتاب الحجہ
۳۔ نقضِ غرض کا اصول
اگر اللہ نے ہدایت کا حکم دیا ہے تو اس کے لیے راستہ بھی فراہم کرنا ضروری ہے۔ اگر لوگوں کو ان کی اپنی رائے پر چھوڑ دیا جائے تو مقصدِ ہدایت حاصل نہ ہو گا، جو حکیمِ الٰہی کی شان کے خلاف ہو گا۔ منہاج الکرامۃ، ص۴۵
۴۔ زمین کبھی حجت سے خالی نہیں
سورہ بقرہ آیت ۱۲۴ — خصوصی تفسیری مطالعہ
نکتہ اول: امامت ایک الٰہی عہد ہے
آیت میں «إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» کہا گیا — یہاں «جاعل» کا صیغہ خود اللہ کی طرف سے ہے۔ یہ امامت کے الٰہی ہونے کی واضح دلیل ہے کہ یہ منصب صرف اللہ کے انتخاب سے ملتا ہے، لوگوں کی بیعت یا شوریٰ سے نہیں۔ المیزان، ج۱، ص۲۷۸
شیعہ مفسرین کا استدلال: اگر امامت محض سیاسی عہدہ ہوتی تو «جعل» کی بجائے «اختیار» یا «انتخاب» جیسے الفاظ استعمال ہوتے۔ البرہان، ج۱، ص۲۷۵
نکتہ دوم: «کلمات» سے مراد
مفسرین نے «کلمات» کی مختلف تعبیریں پیش کی ہیں — بعض کے مطابق یہ پانچ فطری امور ہیں تفسیر قمی، ج۱، ص۴۵، بعض کے مطابق حج کے اعمال تفسیر عیاشی، ج۱، ص۱۵۵، اور بعض کے مطابق وہ کلمات جو آدم علیہ السلام نے سیکھے اور پھر ابراہیم کو ورثے میں ملے۔ عیون اخبار الرضا، ج۱، ص۱۲۵
نکتہ سوم: «ظالم» سے مراد اور عصمت کا اثبات
یہ آیت کا سب سے اہم حصہ ہے جو عصمت کے قاعدے کی بنیاد ہے:
| مکتبِ فکر | «ظالم» کی تفسیر | نتیجہ |
|---|---|---|
| شیعہ | جس نے کبھی بھی کسی بھی قسم کا ظلم یا گناہ کیا ہو — خواہ ماضی میں ہو | امام کے لیے مکمل عصمت شرط ہے |
| اہل سنت (رازی) | صرف مشرک — لیکن توبہ کے بعد مومن امام بن سکتا ہے | عصمت شرط نہیں |
| تجزیہ | آیت کے الفاظ غیر مشروط ہیں — «موجودہ ظالم» کی قید کہیں نہیں | شیعہ تفسیر ظاہری الفاظ سے زیادہ ہم آہنگ ہے المیزان، ج۱، ص۲۸۳ |
نکتہ چہارم: امامت نبوت سے اعلیٰ مقام
حضرت ابراہیم علیہ السلام نبوت کے باوجود آزمائشوں سے گزرے اور تب امامت پائی — یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امامت نبوت سے ایک الگ اور اعلیٰ مقام ہے۔ المیزان، ج۱، ص۲۸۰
نکتہ پنجم: امامت اولاد میں جاری — شرط کے ساتھ
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا «وَمِن ذُرِّيَّتِي» اور اللہ کا جواب یہ ثابت کرتا ہے کہ امامت ابراہیمی اولاد میں جاری رہے گی — لیکن صرف انہیں ملے گی جو کبھی ظالم نہ رہے ہوں، یعنی معصوم ہوں۔ شیعہ عقیدہ ہے کہ یہ سلسلہ نبی ﷺ کے بعد بارہ اماموں کی صورت میں جاری رہا۔ الکافی، ج۱، باب ان الائمۃ اثنا عشر
عصمت کی شرط — تقابلی تجزیہ
عصمت کا مفہوم
لغت میں «عصمت» کے معنی «بچانا»، «محفوظ کرنا» کے ہیں۔ اصطلاح میں یہ وہ ملکہ (قوت) ہے جو انسان کو گناہ سے روکتی ہے۔ کشف المراد، ص۱۸۵ عصمت ذاتی نہیں بلکہ عطائی ہے — اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشا گیا تحفظ۔
عصمت کی ضرورت پر دلائل
-
۱دین کا تحفظ: اگر امام معصوم نہ ہو تو دین میں تحریف ممکن ہے، جس سے دینی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ کشف المراد، ص۳۸۰
-
۲اعتمادِ عوام: چونکہ امام لوگوں کے لیے حجت ہے، اس لیے اس کا معصوم ہونا ضروری ہے — ورنہ لوگ اس پر اعتماد نہ کر سکیں گے۔ منہاج الکرامۃ، ص۶۵
-
۳قرآنی دلیل: آیت ۱۲۴ کے علاوہ آیتِ تطہیر سورہ احزاب، ۳۳ بھی اہل بیت کی عصمت پر دلالت کرتی ہے۔
-
۴عقلی دلیل: اللہ نے امام کی اطاعت واجب کی ہے۔ اگر امام معصوم نہ ہو اور گناہ کا حکم دے تو اطاعت گناہ بن جائے گی — یہ تناقض ہے۔ کشف المراد، ص۳۸۲
آیتِ تطہیر
اہل سنت کا مؤقف اور شیعہ جواب
| اعتراض | شیعہ جواب |
|---|---|
| خلفائے راشدین سے اجتہادی خطائیں ہوئیں پھر بھی ان کی خلافت صحیح تھی | شیعہ ان کی خلافت کو برحق نہیں مانتے — علی علیہ السلام ہی خلیفہ برحق اور معصوم تھے |
| عصمت غیر معقول ہے — گناہ کرنے کی قدرت ہو لیکن کرے نہیں | عصمت قدرت کو ختم نہیں کرتی، ایک خاص ملکہ آ جاتا ہے جو گناہ کو ناپسندیدہ بنا دیتا ہے |
| قرآن میں انبیاء سے گناہ کی نسبت آئی ہے (مثلاً آدم، یونس علیہم السلام) | یہ «ترکِ اولیٰ» تھا — بہتر کو چھوڑ کر اچھا کرنا — گناہ نہیں |
حدیثِ ثقلین اور عصمت
شیعہ استدلال: جس طرح قرآن معصوم ہے، اسی طرح اہلِ بیت بھی معصوم ہیں — ورنہ ان کی پیروی گمراہی کا ذریعہ بن سکتی تھی اور حدیث کا مقصد ہی فوت ہو جاتا۔
امام کے دیگر خصائص
۱۔ علمِ لدنی
امام کو اللہ کی طرف سے خاص علم عطا ہوتا ہے جسے «علمِ لدنی» کہتے ہیں۔ اس کے تین پہلو ہیں:
- اعلمِ غیب: اللہ کی توفیق سے بعض غیبی باتوں کا علم — تاہم یہ عطائی ہے، ذاتی نہیں۔ المیزان، ج۱، ص۲۹۵
- بعلمِ قرآن: قرآن کے ظاہر اور باطن دونوں کا علم — وہ تاویلات جو عام لوگوں سے پوشیدہ ہیں۔ البرہان، مقدمہ
- جعلمِ سنہ: پیغمبر ﷺ کی سنت کا مکمل علم — صحیح اور ضعیف کی تمیز۔ الکافی، ج۱، باب ان الائمۃ ورثۃ العلم
۲۔ افضلیت
امام اپنے زمانے میں تمام لوگوں سے افضل ہوتا ہے تجرید الاعتقاد، ص۱۸۵ — علمی، عملی اور روحانی تینوں پہلوؤں سے۔
۳۔ حجیت
امام زمین پر اللہ کی حجت ہے جس کے بغیر زمین خالی نہیں رہ سکتی۔ الکافی، باب ان الارض لاتخلو من حجۃ اس کا مطلب: اطاعت واجب ہے سورہ نساء، ۵۹، وہ اللہ کے فیض کا واسطہ ہے، اور اس کی موجودگی اتمامِ حجت ہے۔
۴۔ نورانیت
نتیجہ
اس تحقیق میں ہم نے امامت کے فلسفے کو شیعہ نقطہ نظر سے تفصیل سے زیر بحث لایا اور سورہ بقرہ کی آیت ۱۲۴ کو محوری دلیل کے طور پر پیش کیا۔ تحقیق کے اہم نتائج:
اول: آیت ۱۲۴ کے مطابق امامت ایک الٰہی عہد ہے جو اللہ خود «جعل» (مقرر) کرتا ہے — یہ اہل سنت کے سیاسی تصورِ امامت سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔
دوم: «لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ» امامت کے لیے عصمت کی شرط ثابت کرتا ہے — جو شخص کبھی بھی ظالم رہا ہو، وہ اس عہد کا اہل نہیں۔
سوم: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نبی ہونے کے باوجود آزمائشوں سے گزرنا اور پھر امامت پانا ثابت کرتا ہے کہ امامت نبوت سے ایک الگ اور اعلیٰ مقام ہے۔
چہارم: شیعہ دلائل — آیتِ تطہیر، حدیثِ ثقلین، قاعدۂ لطف — عصمت کو ثابت کرنے میں مل کر ایک مضبوط فکری بنیاد تشکیل دیتے ہیں۔
پنجم: یہ اختلاف محض تاریخی یا فقہی نہیں بلکہ ایک اصولی عقیدہ ہے۔ یہ تحقیق اس موضوع پر مزید گفتگو کی ایک دعوت ہے۔
📚 مصادر و مراجع
- ۱کلینی، محمد بن یعقوب۔ الکافی۔ تہران: دارالکتب الاسلامیہ
- ۲سید رضی۔ نہج البلاغہ۔ قم: مرکز تحقیقات رایانہ علوم اسلامی
- ۳طباطبائی، سید محمد حسین۔ تفسیر المیزان۔ لاہور: ادارہ ثقافت اسلامی
- ۴علامہ حلی۔ کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد۔ قم: جامعہ مدرسین
- ۵علامہ حلی۔ منہاج الکرامۃ فی معرفۃ الامامۃ۔ مشہد: المجمع العالمی لال البیت
- ۶علامہ مجلسی۔ بحار الانوار۔ بیروت: موسسۃ الوفاء
- ۷طبرسی، فضل بن حسن۔ مجمع البیان۔ بیروت: موسسۃ الاعلمی
- ۸بحرانی، سید ہاشم۔ البرہان فی تفسیر القرآن۔ تہران: بنیاد بعثت
- ۹فخرالدین رازی۔ التفسیر الکبیر۔ بیروت: دار احیاء التراث
- ۱۰شیخ صدوق۔ عیون اخبار الرضا علیہ السلام۔ قم: جامعہ مدرسین
- ۱۱قمی، علی بن ابراہیم۔ تفسیر القمی۔ قم: موسسۃ الامام المہدی
- ۱۲عیاشی، محمد بن مسعود۔ تفسیر العیاشی۔ تہران: المطبعۃ العلمیۃ
- ۱۳ملاصدرا۔ شرح اصول الکافی۔ تہران: موسسہ مطالعات فرہنگی
- ۱۴شہید مطہری۔ امامت اور رہبری۔ تہران: صدرا
- ۱۵صدر، سید محمد باقر۔ بحوث فی علم الاصول۔ قم: مرکز الابحاث
No comments:
Post a Comment