Thursday, 16 April 2026

امامت کا فلسفہ

امامت کا فلسفہ - محمد سبطین اکبر
تحقیقی مقالہ — ایم اے سطح

امامت کا فلسفہ

شیعہ نقطہ نظر سے امام کے وجود کی ضرورت اور اس کے خصائص (عصمت) کا تقابلی جائزہ
سورہ بقرہ کی آیت ۱۲۴ کے خصوصی مطالعے کے تناظر میں

✍️ محمد سبطین اکبر 📚 تقابلی کلام 🕌 شیعہ امامت
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد وآلہ الطاہرین۔

اسلامی عقائد میں امامت کا مقام انتہائی بلند اور حساس ہے، کیونکہ یہ اس سوال کا جواب دیتا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی رحلت کے بعد امتِ مسلمہ کی راہنمائی کس کے ذمے ہے۔ یہ محض ایک تاریخی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسا عقیدہ ہے جس نے صدیوں سے امت کو دو بڑے مکاتبِ فکر میں تقسیم کر رکھا ہے۔

اس تحقیق میں سورہ بقرہ کی آیت ۱۲۴ کو محور بنایا گیا ہے تاکہ شیعہ نقطہ نظر میں امامت کے الٰہی ہونے اور عصمت کی شرط کو واضح کیا جا سکے۔


۱

لغوی و اصطلاحی تعریف

امام کا لغوی معنی

عربی زبان میں «امام» اس شخص کو کہتے ہیں جس کی پیروی کی جائے — خواہ نیکی میں ہو یا برائی میں۔ یہ لفظ «اُمّ» سے مشتق ہے جس کے معنی «قصد کرنا» یا «آگے بڑھنا» کے ہیں۔ لغوی اعتبار سے امام پیشوا، رہنما اور اسوہ (مثال) کے معنی دیتا ہے۔ المیزان، ج۱، ص۲۷۵

«الاِمَامُ مَن یُقتَدیٰ بِهِ» — امام وہ ہے جس کی پیروی کی جائے
نہج البلاغہ، خطبہ ۱۵۲

اصطلاحی تعریف: تقابلی جائزہ

پہلو اہل سنت نقطہ نظر اہل تشیع نقطہ نظر
ماہیت سیاسی و انتظامی عہدہ الٰہی و روحانی منصب
تقرر شوریٰ، اجماع یا قہر سے اللہ کی طرف سے نص کے ذریعے
عصمت شرط نہیں لازمی شرط
دینی درجہ فروع (عملی احکام) اصول دین (بنیادی عقائد)
نوعیت رسول ﷺ کی سیاسی جانشینی نبوت کا تکملہ و باطنی ورثہ

شیعہ متکلمین کے مطابق: «الإمامُ خَلِيفَةُ اللّٰهِ فِي أرضِهِ وَ حُجَّتُهُ عَلَيٰ عِبَادِهِ» — امام زمین پر اللہ کا خلیفہ اور اس کی مخلوق پر حجت ہے۔


۲

اہل سنت کے ہاں امامت کا تصور

اہل سنت کے ہاں امامت (جسے وہ خلافت بھی کہتے ہیں) کا تصور زیادہ تر عملی اور سیاسی پہلوؤں پر مبنی ہے۔ ان کے نزدیک بنیادی آراء یہ ہیں:

  • ۱
    سیاسی و سماجی عہدہ: خلافت کوئی الٰہی منصب نہیں بلکہ امت کی مصلحت کے لیے قائم ایک انتظامی ذمہ داری ہے۔ المواقف، ج۳، ص۲۶۵
  • ۲
    تقرر کا طریقہ: انتخاب (شوریٰ)، عہد یا قہر و غلبے کے ذریعے — الٰہی نص کی ضرورت نہیں۔ شرح المواقف، ج۸، ص۲۴۵
  • ۳
    عصمت غیر ضروری: امام میں عصمت شرط نہیں، البتہ عدل، علم اور اہلیت مطلوب ہے۔ الاقتصاد، ص۲۳۵
  • ۴
    سیاسی جانشینی: یہ رسول ﷺ کی سیاسی جانشینی ہے، نبوت کی جانشینی نہیں۔ العقیدۃ الطحاویۃ، ص۸۹

۳

امام کے وجود کی ضرورت — عقلی دلائل

شیعہ مکتب فکر میں امامت کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ «کوئی دور امام کے بغیر نہیں گزر سکتا۔» الکافی، ج۱، باب الاضطرار اس پر متعدد عقلی دلائل پیش کیے گئے ہیں:

۱۔ قاعدۂ لطف

⚖️ قاعدۂ لطف کی تعریف

اللہ تعالیٰ پر واجب ہے — یعنی اس کی حکمت کا تقاضا ہے — کہ وہ وہ سب کچھ کرے جو بندوں کو اطاعت کے قریب اور معصیت سے دور کرے۔ چونکہ پیغمبر ﷺ کے بعد امت کو رہنمائی کی ضرورت ہے، اس لیے اللہ نے معصوم امام کو مقرر فرمایا تاکہ دین میں تحریف نہ ہو سکے۔ کشف المراد، ص۳۶۵

علامہ حلی فرماتے ہیں: «جب ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ نے ہدایت کے لیے انبیاء بھیجے تو اسی حکمت کا تقاضا ہے کہ ان کے بعد بھی سلسلۂ ہدایت امام کے ذریعے جاری رہے۔»

۲۔ بقائے شریعت کا مسئلہ

جب پیغمبر ﷺ نے دین مکمل کر دیا سورہ مائدہ، ۳ تو اس مکمل شریعت کے تحفظ اور صحیح تفسیر کے لیے ایک ایسے عالم و رہنما کی ضرورت ہے جو خطا سے پاک ہو۔ عام انسان — خواہ کتنا ہی بڑا عالم ہو — خطا کا امکان رکھتا ہے۔ الکافی، ج۱، کتاب الحجہ

۳۔ نقضِ غرض کا اصول

اگر اللہ نے ہدایت کا حکم دیا ہے تو اس کے لیے راستہ بھی فراہم کرنا ضروری ہے۔ اگر لوگوں کو ان کی اپنی رائے پر چھوڑ دیا جائے تو مقصدِ ہدایت حاصل نہ ہو گا، جو حکیمِ الٰہی کی شان کے خلاف ہو گا۔ منہاج الکرامۃ، ص۴۵

۴۔ زمین کبھی حجت سے خالی نہیں

«لَو بَقِيَ اثنَانِ لَكَانَ أَحَدُهُمَا حُجَّةً عَلَى صَاحِبِهِ» — اگر زمین میں دو افراد بھی رہ جائیں تو ان میں سے ایک اللہ کی حجت ہو گا۔
امام صادق علیہ السلام — الکافی، ج۱، باب ان الارض لاتخلو من حجۃ

۴

سورہ بقرہ آیت ۱۲۴ — خصوصی تفسیری مطالعہ

وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ
اور جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند باتوں کے ذریعے آزمایا اور انہوں نے انہیں پورا کر دیا تو فرمایا: «میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔» کہا: «اور میری اولاد میں سے؟» فرمایا: «میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔»
سورہ البقرہ — آیت ۱۲۴

نکتہ اول: امامت ایک الٰہی عہد ہے

آیت میں «إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» کہا گیا — یہاں «جاعل» کا صیغہ خود اللہ کی طرف سے ہے۔ یہ امامت کے الٰہی ہونے کی واضح دلیل ہے کہ یہ منصب صرف اللہ کے انتخاب سے ملتا ہے، لوگوں کی بیعت یا شوریٰ سے نہیں۔ المیزان، ج۱، ص۲۷۸

شیعہ مفسرین کا استدلال: اگر امامت محض سیاسی عہدہ ہوتی تو «جعل» کی بجائے «اختیار» یا «انتخاب» جیسے الفاظ استعمال ہوتے۔ البرہان، ج۱، ص۲۷۵

امام صادق علیہ السلام: «ابراہیم نبی تھے، امام نہیں تھے۔ جب انہوں نے آزمائشوں کو پورا کیا تو اللہ نے انہیں امامت عطا فرمائی۔ نبوت کے بعد امامت کا مقام اور بھی روشن ہو گیا۔»
الکافی، ج۱، کتاب الحجہ، باب ان الائمۃ ہم الولاة

نکتہ دوم: «کلمات» سے مراد

مفسرین نے «کلمات» کی مختلف تعبیریں پیش کی ہیں — بعض کے مطابق یہ پانچ فطری امور ہیں تفسیر قمی، ج۱، ص۴۵، بعض کے مطابق حج کے اعمال تفسیر عیاشی، ج۱، ص۱۵۵، اور بعض کے مطابق وہ کلمات جو آدم علیہ السلام نے سیکھے اور پھر ابراہیم کو ورثے میں ملے۔ عیون اخبار الرضا، ج۱، ص۱۲۵

نکتہ سوم: «ظالم» سے مراد اور عصمت کا اثبات

یہ آیت کا سب سے اہم حصہ ہے جو عصمت کے قاعدے کی بنیاد ہے:

لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ
میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا
مکتبِ فکر «ظالم» کی تفسیر نتیجہ
شیعہ جس نے کبھی بھی کسی بھی قسم کا ظلم یا گناہ کیا ہو — خواہ ماضی میں ہو امام کے لیے مکمل عصمت شرط ہے
اہل سنت (رازی) صرف مشرک — لیکن توبہ کے بعد مومن امام بن سکتا ہے عصمت شرط نہیں
تجزیہ آیت کے الفاظ غیر مشروط ہیں — «موجودہ ظالم» کی قید کہیں نہیں شیعہ تفسیر ظاہری الفاظ سے زیادہ ہم آہنگ ہے المیزان، ج۱، ص۲۸۳

نکتہ چہارم: امامت نبوت سے اعلیٰ مقام

حضرت ابراہیم علیہ السلام نبوت کے باوجود آزمائشوں سے گزرے اور تب امامت پائی — یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امامت نبوت سے ایک الگ اور اعلیٰ مقام ہے۔ المیزان، ج۱، ص۲۸۰

نکتہ پنجم: امامت اولاد میں جاری — شرط کے ساتھ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا «وَمِن ذُرِّيَّتِي» اور اللہ کا جواب یہ ثابت کرتا ہے کہ امامت ابراہیمی اولاد میں جاری رہے گی — لیکن صرف انہیں ملے گی جو کبھی ظالم نہ رہے ہوں، یعنی معصوم ہوں۔ شیعہ عقیدہ ہے کہ یہ سلسلہ نبی ﷺ کے بعد بارہ اماموں کی صورت میں جاری رہا۔ الکافی، ج۱، باب ان الائمۃ اثنا عشر


۵

عصمت کی شرط — تقابلی تجزیہ

عصمت کا مفہوم

لغت میں «عصمت» کے معنی «بچانا»، «محفوظ کرنا» کے ہیں۔ اصطلاح میں یہ وہ ملکہ (قوت) ہے جو انسان کو گناہ سے روکتی ہے۔ کشف المراد، ص۱۸۵ عصمت ذاتی نہیں بلکہ عطائی ہے — اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشا گیا تحفظ۔

عصمت کی ضرورت پر دلائل

  • ۱
    دین کا تحفظ: اگر امام معصوم نہ ہو تو دین میں تحریف ممکن ہے، جس سے دینی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ کشف المراد، ص۳۸۰
  • ۲
    اعتمادِ عوام: چونکہ امام لوگوں کے لیے حجت ہے، اس لیے اس کا معصوم ہونا ضروری ہے — ورنہ لوگ اس پر اعتماد نہ کر سکیں گے۔ منہاج الکرامۃ، ص۶۵
  • ۳
    قرآنی دلیل: آیت ۱۲۴ کے علاوہ آیتِ تطہیر سورہ احزاب، ۳۳ بھی اہل بیت کی عصمت پر دلالت کرتی ہے۔
  • ۴
    عقلی دلیل: اللہ نے امام کی اطاعت واجب کی ہے۔ اگر امام معصوم نہ ہو اور گناہ کا حکم دے تو اطاعت گناہ بن جائے گی — یہ تناقض ہے۔ کشف المراد، ص۳۸۲

آیتِ تطہیر

إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا
اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کی گندگی کو دور کرے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔
سورہ الاحزاب — آیت ۳۳

اہل سنت کا مؤقف اور شیعہ جواب

اعتراضشیعہ جواب
خلفائے راشدین سے اجتہادی خطائیں ہوئیں پھر بھی ان کی خلافت صحیح تھی شیعہ ان کی خلافت کو برحق نہیں مانتے — علی علیہ السلام ہی خلیفہ برحق اور معصوم تھے
عصمت غیر معقول ہے — گناہ کرنے کی قدرت ہو لیکن کرے نہیں عصمت قدرت کو ختم نہیں کرتی، ایک خاص ملکہ آ جاتا ہے جو گناہ کو ناپسندیدہ بنا دیتا ہے
قرآن میں انبیاء سے گناہ کی نسبت آئی ہے (مثلاً آدم، یونس علیہم السلام) یہ «ترکِ اولیٰ» تھا — بہتر کو چھوڑ کر اچھا کرنا — گناہ نہیں

حدیثِ ثقلین اور عصمت

«إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ: كِتَابَ اللّٰهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي» — میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں: کتابِ اللہ اور میری عترت، اہلِ بیت۔
صحیح مسلم، ج۴، ص۱۸۷۳

شیعہ استدلال: جس طرح قرآن معصوم ہے، اسی طرح اہلِ بیت بھی معصوم ہیں — ورنہ ان کی پیروی گمراہی کا ذریعہ بن سکتی تھی اور حدیث کا مقصد ہی فوت ہو جاتا۔


۶

امام کے دیگر خصائص

۱۔ علمِ لدنی

امام کو اللہ کی طرف سے خاص علم عطا ہوتا ہے جسے «علمِ لدنی» کہتے ہیں۔ اس کے تین پہلو ہیں:

  • ا
    علمِ غیب: اللہ کی توفیق سے بعض غیبی باتوں کا علم — تاہم یہ عطائی ہے، ذاتی نہیں۔ المیزان، ج۱، ص۲۹۵
  • ب
    علمِ قرآن: قرآن کے ظاہر اور باطن دونوں کا علم — وہ تاویلات جو عام لوگوں سے پوشیدہ ہیں۔ البرہان، مقدمہ
  • ج
    علمِ سنہ: پیغمبر ﷺ کی سنت کا مکمل علم — صحیح اور ضعیف کی تمیز۔ الکافی، ج۱، باب ان الائمۃ ورثۃ العلم

۲۔ افضلیت

امام اپنے زمانے میں تمام لوگوں سے افضل ہوتا ہے تجرید الاعتقاد، ص۱۸۵ — علمی، عملی اور روحانی تینوں پہلوؤں سے۔

۳۔ حجیت

امام زمین پر اللہ کی حجت ہے جس کے بغیر زمین خالی نہیں رہ سکتی۔ الکافی، باب ان الارض لاتخلو من حجۃ اس کا مطلب: اطاعت واجب ہے سورہ نساء، ۵۹، وہ اللہ کے فیض کا واسطہ ہے، اور اس کی موجودگی اتمامِ حجت ہے۔

۴۔ نورانیت

امام صادق علیہ السلام: «اللہ نے ہم اہلِ بیت کو اپنے نور سے پیدا کیا، پھر ہمیں اپنے عرش کے دائیں جانب رکھا، جہاں ہم تسبیح و تقدیس کرتے رہے۔ پھر ہمارے نور سے انبیاء اور پھر مومنین کو پیدا کیا۔»
الکافی، ج۱، ص۱۲۵

نتیجہ

اس تحقیق میں ہم نے امامت کے فلسفے کو شیعہ نقطہ نظر سے تفصیل سے زیر بحث لایا اور سورہ بقرہ کی آیت ۱۲۴ کو محوری دلیل کے طور پر پیش کیا۔ تحقیق کے اہم نتائج:

اول: آیت ۱۲۴ کے مطابق امامت ایک الٰہی عہد ہے جو اللہ خود «جعل» (مقرر) کرتا ہے — یہ اہل سنت کے سیاسی تصورِ امامت سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔

دوم: «لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ» امامت کے لیے عصمت کی شرط ثابت کرتا ہے — جو شخص کبھی بھی ظالم رہا ہو، وہ اس عہد کا اہل نہیں۔

سوم: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نبی ہونے کے باوجود آزمائشوں سے گزرنا اور پھر امامت پانا ثابت کرتا ہے کہ امامت نبوت سے ایک الگ اور اعلیٰ مقام ہے۔

چہارم: شیعہ دلائل — آیتِ تطہیر، حدیثِ ثقلین، قاعدۂ لطف — عصمت کو ثابت کرنے میں مل کر ایک مضبوط فکری بنیاد تشکیل دیتے ہیں۔

پنجم: یہ اختلاف محض تاریخی یا فقہی نہیں بلکہ ایک اصولی عقیدہ ہے۔ یہ تحقیق اس موضوع پر مزید گفتگو کی ایک دعوت ہے۔

📚 مصادر و مراجع

  • ۱
    کلینی، محمد بن یعقوب۔ الکافی۔ تہران: دارالکتب الاسلامیہ
  • ۲
    سید رضی۔ نہج البلاغہ۔ قم: مرکز تحقیقات رایانہ علوم اسلامی
  • ۳
    طباطبائی، سید محمد حسین۔ تفسیر المیزان۔ لاہور: ادارہ ثقافت اسلامی
  • ۴
    علامہ حلی۔ کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد۔ قم: جامعہ مدرسین
  • ۵
    علامہ حلی۔ منہاج الکرامۃ فی معرفۃ الامامۃ۔ مشہد: المجمع العالمی لال البیت
  • ۶
    علامہ مجلسی۔ بحار الانوار۔ بیروت: موسسۃ الوفاء
  • ۷
    طبرسی، فضل بن حسن۔ مجمع البیان۔ بیروت: موسسۃ الاعلمی
  • ۸
    بحرانی، سید ہاشم۔ البرہان فی تفسیر القرآن۔ تہران: بنیاد بعثت
  • ۹
    فخرالدین رازی۔ التفسیر الکبیر۔ بیروت: دار احیاء التراث
  • ۱۰
    شیخ صدوق۔ عیون اخبار الرضا علیہ السلام۔ قم: جامعہ مدرسین
  • ۱۱
    قمی، علی بن ابراہیم۔ تفسیر القمی۔ قم: موسسۃ الامام المہدی
  • ۱۲
    عیاشی، محمد بن مسعود۔ تفسیر العیاشی۔ تہران: المطبعۃ العلمیۃ
  • ۱۳
    ملاصدرا۔ شرح اصول الکافی۔ تہران: موسسہ مطالعات فرہنگی
  • ۱۴
    شہید مطہری۔ امامت اور رہبری۔ تہران: صدرا
  • ۱۵
    صدر، سید محمد باقر۔ بحوث فی علم الاصول۔ قم: مرکز الابحاث

Monday, 1 January 2018

الذكر الكثير في القرآن و السنة




الذكر الكثير في القرآن و السنة



المحقق

ملك محمد سبطين اكبر

الذكر الكثير في القرآن
 ما هو الذكر الكثير؟
الذكر الكثير عند مدرسة اهل البيت(ع)
 الذكر الكثير عند مدرسة اهل السنة
 مصداق الذكرالكثير
 روايات عن الأئمة (ع)في فضل الذكر الكثير
 فوائد تسبيح فاطمة الزهراء (عليها السلام)

المقدمة
الحمد لله الذي منّ علينا بمننه، وأنعم علينا بنعمه، والصلاة والسلام على النور الأول و المصطفى الأمجد وعلى آله الأخيار المصطفين الأبرار، ساسة العباد، وقادة البلاد أعني محمداً وآل محمد صلوات الله وسلامه عليهم أجمعين،
إنّ تنزيه الله سبحانه وتعالى عن كلِّ ما لا يليق بساحة  قدسه نابع من عظمته وكماله وجماله، فلأنه تعالى كامل مطلق يقتضي ذلك تنزيهه عن كلِّ نقص،ولأنه تعالى جميل مطلق يقتضي ذلك تنزيهه عن كلِّ قبح، ولأنَّه عالم مطلق وقادر مطلق فهومنزه عن كلِّ جهل، وعن كلِّ عجز، ولأنَّه له الأسماء الحسنى والصفات العليا فلابد أنْ يكون منزهاًعن كلِّ ما يخالف ذلك. وأما بعد:
إن عوامل الغفلة في حياة الإنسان المادية كثيرة جدّا، وسهام وسوسة الشياطين ترمى من كلّ جانب صوب الإنسان، فلا طريق لمحاربتها إلّا بذكر اللّه الكثير، وليس ذكر الله تعالى باللسان فقط، بل اللسان ترجمان القلب، والهدف هو التوجُّه بكلِّ وجود الإنسان إلى ذات الباري تعالى والذوبان فيه والاستغراق بجلاله وكبريائه وعظمته والشعور بحضوره ورقابته وإحاطته بكلِّ كيانه، ممّا ينعكس على سلوك الإنسان وعمله وأخلاقه بحيث يصونه من الذنب ويدعوه إلى الطاعة.
 و لا يخفى علينا إن للذكرأهمية في حياتنا اليومية، ويعتبرالرابط بين الإنسان وخالقه فالإنسان بدون الذكر يكون كالميت بين الأحياء، فكل جارحةٍ من جوارح الإنسان لها عبادة، فعبادة العين أن تَغُضَ البصر عن محارم الله، والأذن لها عبادة، واليد لها عبادة، أما عبادة القلب فهي الذِكر.و الآن علينا أن ندخل في بيان الذكر الكثير في القرآن و السنة و مراحله حسب ما يأتي: 





الفصل الاول
في الكليات و المفاهيم 
الذكرلغة واصطلاحا
لغة:
مصدر ذكر الشيء يذكره ذكراً وذكرًا بكسر الذال وضمها، وهو يأتي في اللغة لمعان و من أهمها:
الأول: هو الشيء يجري على اللسان، أي ما ينطق به يقال ذكرت الشيء إذا نطقت به أو تحدثت عنه  ، ومنه قوله تعالى (ذكر رحمة ربك عبده زكريا) .
الثاني: استحضار الشيء في القلب، نقيض النسيان ومنه: قوله تعالى: وما أنسانيه إلا الشيطان أن أذكره)  .
الثالث: الصيت والشهرة والثناء.
الرابع: قال الراغب الأصفهاني في مفرداته"الذكر" تارة يقال ويراد به هيئة للنفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة،وتارة يقال لحضور الشيء القلب أو القول، ولذلك قيل الذكر ذكران ذكر بالقلب و ذكر باللسان.
وكل واحد منهما ضربان، ذكر عن نسيان وذكر لا عن نسيان بل عن إدامة الحفظ وكل قول يقال له الذكر، فمنها:
الذكر باللسان: قوله تعالى: لقد أنزلنا إليكم كتابًا فيه ذكركم . 
وقوله تعالى: وإنه لذكر لك ولقومك  .
ومن الذكرعن النسيان: قوله تعالى:فأني نسيت الحوت وما أنسانيه إلا الشيطان .
ومن الذكر بالقلب واللسان معًا: قوله تعالى: فأذكروا الله كذكركم آباءكم أو أشد ذكرًا.  

اصطلاحا
في الاصطلاح فله معنيان:
1. معنى عام: ويشمل كل أنواع العبادات من صلاة وصيام وحج وقراءة قرآن وثناء ودعاء وتسبيح وتحميد وتمجيد وغير ذلك من أنواع الطاعات؛ لأنها إنما تقام لذكر الله وطاعته وعبادته.
2. معنى خاص: وهو ذكر الله بالألفاظ التي وردت عن الله سبحانه وتعالى من تلاوة كتابه أو إجراء أسمائه أو صفاته العليا على لسان العبد أو قلبه مما ورد في كتاب الله سبحانه، أو الألفاظ التي وردت على لسان رسوله صلى الله عليه وسلم، وفيها تمجيد وتنزيه وتقديس وتوحيد لله سبحانه وتعالى. والمراد من الذكر: حضور القلب، فينبغي أن يكون هو مقصود الذاكر فيحرص على تحصيله ويتدبرما ذكر، ويتعقَّل معناه .
  
الفصل الثاني
الذكر الكثير في القرآن 
أنّ للذكر الكثير معنى واسعا جدا،.فإن هذه الكلمة "الذكر الكثير" جائت مرة واحدة في القرآن ولكن لفظ (الذكر) من الألفاظ المتواترة الحضور في القرآن، فقد ورد هذا اللفظ في ثمانية وستين ومئتي (268) موضع، جاء في أربعة وخمسين ومائة (154)موضع بصيغة الفعل بتصريفاته المتنوعة، من ذلك قوله سبحانه: {وذكر الله كثيرا} ، وجاءت أكثر صيغ الأفعال وروداً في القرآن صيغة الأمر، نحو قوله سبحانه: {واذكروا الله} ، حيث وردت هذه الصيغة في واحد وثلاثين موضعاً.
ما هو الذكر الكثير؟
إنّ "الذكر الكثير"يعني التوجّه إلى اللّه سبحانه بكلّ الوجود، لا بلقلقة اللسان و حسب.
"الذكر الكثير"هو الذي يقذف النور في كلّ أعمال الإنسان، و يغمرها بالضياء، و لهذا فإنّ القرآن أمر كلّ المؤمنين في هذه الآية أن يذكروا اللّه على كلّ حال: فاذكروه أثناء العبادة، فاحضروا قلوبكم و أخلصوا فيها.
و اذكروه عند إقدامكم على المعصية و تجنّبوها و إذا ما بدرت منكم عثرة و هفوة فبادروا إلى التوبة، و ارجعوا إلى طريق الحقّ,و اذكروه عند النعم و اشكروه عليها,و اذكروه عند البلايا و المصائب و اصبروا عليها و تحمّلوها.فلا تنسوا ذكره في كلّ مشهد من مشاهد الحياة و الابتعاد عن سخطه، و التقرّب لما يجلب رضاه.
نأتي هنابعض الاقوال مفسري الشيعةو اهل السنة من حول"الذكر الكثير" 
الذكر الكثير عند مدرسة اهل البيت(ع)
نذكر هنا بعض الأقوال لعلما ء الشيعة:
 1. الطبرسي، في تفسيره مجمع البيان :هنا اختلاف كثير في معنى الذكر الكثير فقيل هو أن لا ينساه أبدا عن مجاهد و قيل هو أن يذكره سبحانه بصفاته العلى و أسمائه الحسنى و ينزهه عما لا يليق به و قيل هو أن يقول سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر على كل حال عن مقاتل.
 و قد ورد عن أئمتنا (ع) أنهم قالوا من قالها ثلاثين مرة فقد ذكر الله ذكرا كثيرا .
2. الشيخ الطوسي، في التبيان:هذا خطاب من اللَّه تعالى للمؤمنين المصدقين بوحدانيته المقرين بصدق أنبيائه، يأمرهم بأن يذكروا اللَّه ذكراً كثيراً، و الذكر الكثير أن نذكره بصفاته التي يختص بها، و لا يشاركه فيها غيره، و ننزهه عما لا يليق به. 
و روي في اخبارنا أن من قال: سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله اكبر ثلاثين مرة، فقد ذكر الله كثيراً، و كل صفة لله تعالى فهي صفة تعظيم، و إذا ذكر بأنه شي‏ء وجب أن يقال: إنه شي‏ء لا كالأشياء، و كذلك احد ليس كمثله شي‏ء و كذلك القديم هو الأول قبل كل شي‏ء، و الباقي بعد فناء كل شي‏ء. و لا يجوز أن يذكر بفعل ليس فيه تعظيم، لان جميع ما يفعله يستحق به الحمد و الوصف بالجميل على جهة التعظيم، مثل الذكر بالغنى و الكرم بما يوجب اتساع النعم، و الذكر إحضار معنى الصفة للنفس إما بإيجاد المعنى في النفس ابتداء من غير طلب. و الآخر بالطلب من جهة الفكر. و الذكر قد يجامع العلم، و قد يجامع الشك. و العلم لا يجامع الشك في الشي‏ء على وجه واحد. و الذكر أيضاً يضاد السهو، و لا يضاد الشك، كما يضاده العلم .
3. الطباطبائي في تفسيره الميزان: آيات تدعو المؤمنين إلى الذكر و التسبيح و تبشرهم و تعدهم الوعد الجميل و تخاطب النبي ص بصفاته الكريمة و تأمره أن يبشر المؤمنين و لا يطيع الكافرين و المنافقين، و يمكن أن يكون القبيلان مختلفين في النزول زمانا.
قوله تعالى: «يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْراً كَثِيراً» الذكر ما يقابل النسيان و هو توجيه الإدراك نحو المذكور و أما التلفظ بما يدل عليه من أسمائه و صفاته فهو بعض مصاديق الذكر.
و تفيد التعليل أنكم إن ذكرتم الله كثيرا ذكركم برحمته كثيرا و بالغ في إخراجكم من الظلمات إلى النور و يستفاد منه أن الظلمات إنما هي ظلمات النسيان و الغفلة و النور نور الذكر.
«يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْراً كَثِيراً- وَ سَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَ أَصِيلًا» فقال: لم يجعل الله له حدا ينتهي إليه.
و كان يجمعنا فيأمرنا بالذكر حتى تطلع الشمس- و يأمر بالقراءة من كان يقرأ منا و من كان لا يقرأ منا أمره بالذكر، و البيت الذي يقرأ فيه القرآن و يذكر الله عز و جل فيه يكثر بركته و يحضره الملائكة و يهجره الشياطين- و يضي‏ء لأهل السماء كما يضي‏ء الكوكب لأهل الأرض- و البيت الذي لا يقرأ فيه القرآن- و لا يذكر الله يقل بركته و يهجره الملائكة و يحضره الشياطين .
4. السيد مكارم الشيرازي: إنّ «الذكر الكثير»- بالمعنى الواقعي للكلمة- يعني التوجّه إلى اللّه سبحانه بكلّ الوجود، لا بلقلقة اللسان و حسب.
 «الذكر الكثير» هو الذي يقذف النور في كلّ أعمال الإنسان، و يغمرها بالضياء، و لهذا فإنّ القرآن أمر كلّ المؤمنين في هذه الآية أن يذكروا اللّه على كلّ حال: فاذكروه أثناء العبادة، فاحضروا قلوبكم و أخلصوا فيها.
و اذكروه عند إقدامكم على المعصية و تجنّبوها و إذا ما بدرت منكم عثرة و هفوة فبادروا إلى التوبة، و ارجعوا إلى طريق الحقّ.
و اذكروه عند النعم و اشكروه عليها.
و اذكروه عند البلايا و المصائب و اصبروا عليها و تحمّلوها.
لهذا فإنّ ذكر اللّه الكثير، و تسبيحه بكرة و أصيلا لا يحصل إلّا باستمرار التوجّه إلى اللّه، و تنزيهه عن كلّ عيب و نقص، و تقديسه المتّصل، فذكر اللّه غذاء لروح الإنسان كما أنّ الطعام و الشراب غذاء للبدن.
و جاء في الآية (28) من سورة الرعد أَلا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ و نتيجة هذا الاطمئنان القلبي هو ما ورد في الآيات 27- 30 من سورة الفجر، حيث تقول:يا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى‏ رَبِّكِ راضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبادِي وَ ادْخُلِي جَنَّتِي.
و الخلاصة: لا تنسوا ذكره في كلّ مشهد من مشاهد الحياة و الابتعاد عن سخطه، و التقرّب لما يجلب رضاه . 
الذكر الكثير عند مدرسة اهل السنة
 نذكر هنا بعض أقوال المفسرين من اهل السنة المشهورة :
1.فخر الدين الرازي: أن وجه تعلق الآية بما قبلها هو أن السورة أصلها و مبناها على تأديب النبي صلى اللّه عليه و آله و سلم و قد ذكرنا أن اللّه تعالى بدأ بذكر ما ينبغي أن يكون عليه النبي عليه السلام مع اللّه و هو التقوى و ذكر ما ينبغي أن يكون عليه النبي عليه السلام مع أهله و أقاربه بقوله: يا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْواجِكَ . 
و اللّه تعالى يأمر عباده المؤمنين بما يأمر به أنبياءه المرسلين فأرشد عباده كما أدب نبيه و بدأ بما يتعلق بجانبه من التعظيم فقال: يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْراً كَثِيراً كما قال لنبيه: يا أَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللَّهَ  . 
ثم هاهنا لطيفة و هي أن المؤمن قد ينسى ذكر اللّه فأمر بدوام الذكر، أما النبي لكونه من المقربين لا ينسى و لكن قد يغتر المقرب من الملك بقربه منه فيقل خوفه فقال: اتَّقِ اللَّهَ فإن المخلص على خطر عظيم و حسنة الأولياء سيئة الأنبياء و قوله: ذِكْراً كَثِيراً قد ذكرنا أن اللّه في كثير من المواضع لما ذكر الذكر وصفه بالكثرة إذ لا مانع من الذكر على ما بينا  .
2.الزحيلي: أن المقصود بذكر اللّه- تعالى- في قوله: يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْراً كَثِيراً ما يشمل التهليل و التحميد و التكبير و غير ذلك من الأقوال و الأفعال التي ترضيه- عز و جل-. أى: يا من آمنتم باللّه حق الإيمان، أكثروا من التقرب إلى اللّه- تعالى- بما يرضيه، في كل أوقاتكم و أحوالكم، فإن ذكر اللّه- تعالى- هو طب النفوس و دواؤها، و هو عافية الأبدان و شفاؤها، به تطمئن القلوب، و تنشرح الصدور ..
و التعبير بقوله: اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْراً كَثِيراً يشعر بأن من شأن المؤمن الصادق في إيمانه، أن يواظب على هذه الطاعة مواظبة تامة.
فأكثروا- أيها المؤمنون- من ذكر اللّه- تعالى- في كل أحوالكم، و نزهوه- سبحانه- عن كل ما لا يليق به، في أول النهار و في آخره  .
 صاحب الكشاف: و التسبيح من جملة الذكر. و إنما اختصه- تعالى- من بين أنواعه اختصاص جبريل و ميكائيل من بين الملائكة، ليبين فضله على سائر الأذكار، لأن معناه تنزيه ذاته عما لا يجوز عليه من الصفات و الأفعال  . 
ابن عربى:يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ باللسان في مقام النفس، و الحضور في مقام القلب، و المناجاة في مقام السرّ، و المشاهدة في مقام الروح، و المواصلة في مقام الخفاء، و الفناء في مقام الذات، وَ سَبِّحُوهُ بالتجريد عن الأفعال و الصفات و الذات بُكْرَةً وقت طلوع فجر نور القلب و إدبار ظلمة النفس و ليل غروب شمس الروح بالفناء في الذات، أي: دائما من ذلك الوقت إلى الفناء السرمدي  . 
السعدي: في هذه الأية الشريفة يأمر تعالى المؤمنين، بذكره ذكرا كثيرًا، من تهليل، وتحميد، وتسبيح، وتكبير وغير ذلك، من كل قول فيه قربة إلى اللّه، وأقل ذلك، أن يلازم الإنسان، أوراد الصباح، والمساء، وأدبار الصلوات الخمس، وعند العوارض والأسباب.
وينبغي مداومة ذلك، في جميع الأوقات، على جميع الأحوال، فإن ذلك عبادة يسبق بها العامل، وهو مستريح، وداع إلى محبة اللّه ومعرفته، وعون على الخير، وكف اللسان عن الكلام القبيح.
طنطاوي في الوسيط: أن المقصود بذكر الله- تعالى- في قوله: يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْراً كَثِيراً ما يشمل التهليل والتحميد والتكبير وغير ذلك من الأقوال والأفعال التي ترضيه- عز وجل-.
أى: يا من آمنتم بالله حق الإيمان، أكثروا من التقرب إلى الله- تعالى- بما يرضيه، في كل أوقاتكم وأحوالكم، فإن ذكر الله- تعالى- هو طب النفوس ودواؤها، وهو عافية الأبدان وشفاؤها، به تطمئن القلوب، وتنشرح الصدور ..
والتعبير بقوله: اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْراً كَثِيراً يشعر بأن من شأن المؤمن الصادق في إيمانه، أن يواظب على هذه الطاعة مواظبة تامة.
ابن عاشور : إقبال على مخاطبة المؤمنين بأن يشغلوا ألسنتهم بذكر الله وتسبيحه ، أي أن يمسكوا عن مماراة المنافقين أو عن سبّهم فيما يُرجفون به في قضية تزوج زينب فأمر المؤمنين أن يعتاضوا عن ذلك بذكر الله وتسبيحه خيراً لهم ،
 وهذا كقوله تعالى : { فإذا قضيتم مناسككم فاذكروا الله كذكركم آباءكم أو أشد ذكراً } ، أي خير من التفاخر بذكر آبائكم وأحسابكم ، فذلك أنفع لهم وأبعد عن أن تثور بين المسلمين والمنافقين ثائرة فتنة في المدينة ، فهذا من نحو قوله لنبيّئه { ودَعْ أذاهم } ومن نحو قوله : { ولا تسبوا الذين يدعون من دون الله فيسبوا الله عدواً بغير علم } ، فأمروا بتشغيل ألسنتهم وأوقاتهم بما يعود بنفعهم وتجنب ما عسى أن يوقع في مضرة .
وفيه تسجيل على المنافقين بأن خوضهم في ذلك بعد هذه الآية علامة على النفاق لأن المؤمنين لا يخالفون أمر ربهم .
والجملة استئناف ابتدائي متصل بما قبله للمناسبة التي أشرنا إليها .
والذكر : ذكر اللسان وهو المناسب لموقع الآية بما قبلها وبعدها  .

الفصل الثالث
الذكر الكثيرفي السنة 

روايات مدرسة أهل البيت عليهم السلام
المحدثين الشيعة القدماء في فضل الذكر الكثير
في "الذكر الكثير" وردت روايات كثيرة في الحث والمواظبة عليه منها هذه الروايات من الاذكار والادعية المهمة التي علمها اهل البيت عليهم لشيعتهم هو تسبيح الزهراء وقد وردت روايات كثيرة في الحث والمواظبة عليه منها هذه الروايات :
1. العلامة الحلي « أفضل الاذكار كلها تسبيح الزهراء عليها السلام وقد أجمع أهل العلم كافة على استحبابه » .
2. روى ثقة الإسلام الكليني في أصول الكافي عن محمد بن مسلم في الصحيح « قال : سألت أبا جعفر عليه السلام عن التسبيح ، فقال : ما علمت شيئا موظفا غير تسبيح فاطمة عليها السلام وعشر مرات بعد الفجر تقول : لا إله إلا الله وحده لا شريك له ، له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شئ قدير ويسبح ما شاء تطوعا » .
وروى الكليني أيضاً في أصول الكافي عن هشام بن الحكم في الصحيح « عن أبي عبد الله عليه السلام قال :تسبيح فاطمة الزهراء عليها السلام إذا أخذت مضجعك فكبر الله أربعا وثلاثين واحمده ثلاثا وثلاثين وسبحه ثلاثا وثلاثين وتقرأ آية الكرسي والمعوذتين وعشر آيات من أول الصافات وعشرا من آخرها » .
وروى الكليني عن زرارة بن أعين وزيد الشحام ومنصور بن حازم وسعيد الأعرج في الصحيح « عن أبي عبد الله عليه السلام قال :تسبيح فاطمة الزهراء عليها السلام من الذكر الكثير الذي قال الله عز وجل : اذكروا الله ذكرا كثيرا » .
وروى الكليني في فروع الكافي عن عبد الله بن سنان في الصحيح « قال : قال أبو عبد الله عليه السلام :من سبح تسبيح فاطمة الزهراء عليها السلام قبل أن يثنى رجليه من صلاة الفريضة غفر الله له وليبدأ بالتكبير » .
وروى الكليني أيضاً في فروع الكافي عن محمد بن عذافر في الصحيح « قال : دخلت مع أبي على أبي عبد الله عليه السلام فسأله أبي عن تسبيح فاطمة صلى الله عليها ، فقال :الله أكبر حتى أحصى أربعا وثلاثين مرة ، ثم قال : الحمد لله حتى بلغ سبعا وستين ، ثم قال : سبحان الله حتى بلغ مائة يحصيها بيده جملة واحدة » .
وروى الكليني في فروع الكافي عن أبي هارون المكفوف في الصحيح « عن أبي عبد الله عليه السلام قال :يا أبا هارون إنا نأمر صبياننا بتسبيح فاطمة عليها السلام كما نأمرهم بالصلاة فألزمه فإنه لم يلزمه عبد فشقي » .
3. و روى شيخ الطائفة الطوسي والشيخ الصدوق من أصل العلاء بن رزين عن محمد بن مسلم في الصحيح « قال :قال لي أبو جعفر عليه السلام :إذا توسد الرجل يمينه فليقل : بسم الله اللهم إني أسلمت نفسي إليك ، ووجهت وجهي إليك ، وفوضت أمري إليك ، وألجأت ظهري إليك ، وتوكلت عليك رهبة منك ورغبة إليك ، لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك ، آمنت بكتابك الذي أنزلت وبرسولك الذي أرسلت ثم يسبح تسبيح فاطمة الزهراء عليها السلام . ومن أصابه فزع عند منامه فليقرأ إذا أوى إلى فراشه المعوذتين وآية الكرسي »  .
و روى الشيخ الطوسي في التهذيب عن المفضل بن عمر في المعتبر « عن أبي عبد الله عليه السلام في حديث طويل قال فإذا سلمت في الركعتين سبح تسبيح فاطمة الزهراء عليهما السلام وهو الله أكبر أربعا وثلاثين مرة والحمد لله ثلاثا وثلاثين مرة وسبحان الله ثلاثا وثلاثين مرة ، فوالله لو كان شيئا أفضل منه لعلمه رسول الله صلى الله عليه وآله إياها.... الخ ».
4. وروى الشيخ الصدوق في ثواب الأعمال في الصحيح عن أبي خلف القماط قال « سمعت أبا عبد الله عليه السلام يقول : تسبيح فاطمة الزهراء عليها السلام في كل يوم في دبر كل صلاة أحب إلي من صلاة ألف ركعة في كل يوم » .
وروى الشيخ الصدوق في ثواب الأعمال عن محمد بن مسلم في القوي « قال : قال أبو جعفر عليه السلام من سبح تسبيح الزهراء عليها السلام ثم استغفر غفر له وهي مائة باللسان وألف في الميزان وتطرد الشيطان وترضى الرحمن » .
5. وروى السيد ابن طاووس في فلاح السائل عن وهب بن عبد ربه في المعتبر أو الصحيح « قال سمعت أبا عبد الله عليه السلام يقول من سبح تسبيح الزهراء فاطمة عليها السلام بدء فكبر الله أربعا وثلثين تكبيرة وسبحه ثلثا وثلثين تسبيحة ووصل التسبيح بالتكبير وحمد الله ثلثا وثلثين مرة ووصل التحميد يصلون على النبي يا أيها الذين آمنوا صلوا عليه وسلموا تسليما لبيك ربنا وسعديك اللهم صل على على محمد وآل محمد وعلى أهل بيت محمد وعلى ذرية محمد والسلام عليه وعليهم ورحمة الله وبركاته واشهد ان التسليم منا لهم والايمان بهم والتصديق لهم ربنا آمنا وصدقنا واتبعنا الرسول وآل الرسول فاكتبنا مع الشاهدين اللهم صب علينا الرزق صبا صبا بلاغا للآخرة والدنيا من غير كد ولا نكد ولا من من أحد من خلقك الا سعة من رزقك وطيبا من وسعك من يدك الملأى عفافا لامن أيدي لئام خلقك انك على كل شئ قدير اللهم اجعل النور في بصري والبصيرة في ديني واليقين في قلبي والاخلاص في عملي والسعة في رزقي وذكرك بالليل والنهار على لساني والشكر لك ابدا ما أبقيتني اللهم لا تجدني حيث نهيتني وبارك لي فيما أعطيتني وارحمني إذا توفيتني انك على كل شئ قدير .غفر الله ذنوبه كلها وعافاه من يومه وساعته وشهره وسنته إلى أن يحول الحول من الفقر والفاقة والجنون والجذام والبرص من ميتة السوء ومن كل بلية تنزل من السماء إلى الأرض وكتب له بذلك شهادة الاخلاص بثوابها إلى يوم القيمة وثوابها الجنة البتة فقلت له هذا له إذا قال ذلك في كل يوم من الحول إلى الحول فقال ولكن هذا لمن قاله من الحول إلى الحول مرة واحدة يكتب له ذلك وأجزأه له إلى مثل يومه وساعته وشهره من الحول إلى الحول الجائي الحايل عليه » .
اقوال علماء الشيعة المعاصرين 
1. يقول الإمام الخميني قدس سره عن الآداب القلبية لتسبيح فاطمة عليها السلام: «كما ذكرت في آداب التسبيحات الأربعة يجب في تسبيح فاطمة (عليها الصلاة والسلام ) أيضاً التبتل والتضرّع والانقطاع والتذلل في القلب، ومع التكرار يتعوّد القلب على هذه الحال وإيصال الذكر من اللسان إلى القلب حتى يذوب القلب في الذكر والتوجه إلى اللَّه»  .
2. السيد الخوئي: تسبيح فاطمة الزهراء الذكر الكثير الذي قال الله تعالى: اذكروا الله ذكرا كثيرا) وفي اخرى عن الصادق (ع): (تسبيح فاطمة كل يوم في دبر كل صلاة احب الي من صلاة الف ركعة في كل يوم) والظاهر استحبابه في غير التعقيب أيضا، بل في نفسه، نعم هو مؤكد فيه. وعند ارادة النوم لدفع الرؤيا السيئة، كما ان الظاهر عدم اختصاصه بالفرائض بل هو مستحب عقيب كل صلاة، وكيفيته: (الله اكبر) اربع وثلاثون مرة، ثم (الحمد لله) , ثلاث وثلاثون، ثم (سبحان الله) كذلك، فمجموعها مائه، ويجوز تقديم التسبيح على التحميد وان كان الاولى الاول. (مسألة 19): يستحب ان يكون السبحة بطين قبر الحسين- صلوات الله عليه - وفي الخبر انها تسبح إذا كانت بيد الرجل من غير ان يسبح ويكتب له ذلك التسبيح وان كان غافلا. (مسألة 20): إذا شك في عدد التكبيرات أو التسبيحات أو التحميدات بنى على الاقل ان لم يتجاوز المحل، والا بنى على الاتيان به، وان زاد على الاعداد بنى عليها ورفع اليد عن الزائد .
3. السيد المرعشي :عندما تكلم عن تعقيبات الصلوات قال:ومنها: تسبيح الزهراء (صلوات الله عليها)، وهو أفضلها، ففي الحديث: "ما عبد الله بشيء من التحميد أفضل من تسبيح فاطمة"، وعن الصادق(عليه السلام): "تسبيح فاطمة كلّ يوم في دبر كلّ صلاة أحبّ إليّ من صلاة ألف ركعة في كلّ يوم"  .
4. السيدمحمدصادق الروحاني: تسبيح الزهراء عليها السلام). والظاهر من كلمات الاصحاب ان افضليته مفروغ عنها لديهم، والاخبار الدالة عليها كثيرة كخبر صالح بن عقبة عن جعفر (ع) انه قال: ما عبد الله بشئ افضل من تسبيح فاطمة (ع) ولو كان شئ افضل منه لنحله رسول الله (ص) فاطمة (ع) .
 6. البحراني: قد استفاضت الاخبار بالحث على تسبيح فاطمة الزهراء (سلام الله عليها) وفضله في التعقيب، قال في المنتهى: افضل الاذكار كلها تسبيح الزهراء (سلام الله عليها) وقد اجمع اهل العلم كافة على استحبابه. والاخبار من طرقنا وطرق المخالفين ايضا  .
7. الشيخ الطوسي : والدعاء فيه مرجو ولا يترك تسبيح فاطمة (عليها السلام) خاصة، وهي أربع وثلاثون تكبيرة، وثلث وثلاثون تحميدة، وثلث وثلاثون تسبيحة يبدأ بالتكبير. ثم بالتحميد. ثم بالتسبيح، وفي أصحابنا من قدم التسبيح على التحميد وكل ذلك جايز وكيفيّته: "الله أكبر" أربع وثلاثون مرّة، ثم: "الحمد لله" ثلاث وثلاثون مرّة، ثم: "سبحان الله" كذلك، فمجموعها مائة، وروي أيضاً: تقديم التسبيح على التحميد، والأولى هو الأوّل  .
وفي الحديث أيضاً: "مَن سبّح تسبيح فاطمة(عليها السلام)قبل أن يثني رجليه من صلاة الفريضة، غفر الله له، ويبدأ بالتكبير"، وفي حديث آخر: "وأتبعها بلا إلـه إلاّ الله مرّة، غفر له"، وفي حديث آخر: "مَن سبّح تسبيح فاطمة(عليها السلام)ثم استغفر، غفر له، وهي مائة باللسان وألف في الميزان، وتطرد الشيطان وترضي الرحمان"، وإنّه من الذكر الكثير الذي قال سبحانه: (اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْراً كَثِيراً).
روايات عند مدرسة العامة
1. قال النبيُّ صلى الله عليه وآله وسلم لفاطمة عليها السلام: «ألا أدُّلكِ على خير من خادم، إذا أويتِ إلى فراشك، تسبحين الله ثلاثاً وثلاثين وتحمديه ثلاثاً وثلاثين وتكبريه أربعاً وثلاثين، فذلك خير لك من خادم  .
2. عن الإمام عليِّ بن أبي طالب(عليه  السلام)، أنَّ فاطمة (عليها السلام)، شكت مما تلقى من أثر الرحى، فأتى النبيُّ صلى الله عليه -وآله - وسلم سبي، فانطلقت، فلم تجده فوجدت عائشة فأخبرتها،فلما جاء النبيُّ صلى الله عليه - وآله - وسلم أخبرته عائشة، بمجيء فاطمة، فجاء النبيُّ صلى الله عليه - وآله - وسلم إلينا وقد أخذنا مضاجعنا فذهبت لأقوم، فقال: «على مكانكما ،»فقعد بيننا حتى وجدت برد قدميه لى صدري،فقال: «ألا أعلمكما خيراً مما سألتماني، إذا أخذتما مضاجعكما، فكبرا أربعاً وثلاثين، وسبحا ثلاثاً وثلاثين، وتحمدا ثلاثاً وثلاثين، فهو خير لكما من خادم  .
3. عن أبي الدرداء، قال: قلت: يا رسول الله ذهب الأغنياء بالأجر، يصلون كما نصلي، ويصومون كما نصوم، ويحجون كما نحج، ويتصدقون ولا نجد ما نتصدق به، قال: فقال: «ألا أدلكم على شيءإذا فعلتموه أدركتم من سبقكم، ولا يدرككم من بعدكم، إلا من عمل بالذي تعملون، تسبحون الله ثلاثاً وثلاثين، تحمدونه ثلاثاً وثلاثين، وتكبرونه أربعاً وثلاثين في دبر كل صلاة .

و هنا روايات كثيرة الدالة على افضليته... 

الفصل الرابع
مصداق الذكرالكثير 
ولقد رأينا أن مصداق من الذكر الكثير هو تسبيح الزهراء عليها السلام كان الهدية لها من ابيها رسول الله صلى الله
عليه و آله.
السبب في نسبة هذا الذكر(التسبيح) إلى الزهراء(س) و تأثيره عليها
روى العلامة المجلسي في بحار الأنوار عن دعائم الإسلام أن أمير المؤمنين عليه السلام قال: أرسل بعض ملوك العجم عبيداً إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وقلت لفاطمة عليها السلام اذهبي إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم واسأليه أن يعطينا خادماً ليساعدك في أعمال المنزل، فذهبت فاطمة عليها السلام إلى الرسول صلى الله عليه وآله وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «يا فاطمة أعطيك ما هو خير لك من خادم، ومن الدنيا بما فيها، تكبرين الله بعد كل صلاة أربعا وثلاثين تكبيرة، وتحمدين الله ثلاثاً وثلاثين تحميدة، وتسبحيّن الله ثلاثاً وثلاثين تسبيحة، ثم تختمين بـ(لا إله إلا الله)، ذلك خير لك من الذي أردت ومن الدنيا وما فيها»، فلزمت صلوات الله عليها هذا التسبيح بعد كل صلاة، ونسب إليها)  .
إن هذا الذكر الذي كان هدية النبي (ص) لابنته فاطمة (س) يؤثرها كثيرا كما عن أم أيمن أنها قالت : مضيت ذات يوم إلى منزل مولاتي ( فاطمة الزهراء ) عليها السلام لأزورها في منزلها وكان يوماً حاراً من أيام الصيف فأتيت إلى باب دارها وإذا بالباب مغلق فنظرت من شقوق الباب فإذا بفاطمة الزهراء عليها السلام نائمة عند الرحى ورأيت الرحى تطحن البر وهي تدور من غير يد تديرها والمهد أيضاً إلى جانبها والحسين نائم فيه والمهد يهتز ولم أر من يهزه ورأيت كفاً يسبح الله تعالى قريباً من كف ( فاطمة الزهراء ) عليها السلام .... فتعجبت من ذلك فتركتها ومضيت إلى سيدي رسول الله وسلمت عليه وقلت له : يا رسول الله إني رأيت عجباً ما رأيت مثله أبداً فقال لي ما رأيت يا أم أيمن ؟؟ فقلت : إني قصدت منزل سيدتي ( فاطمة الزهراء ) عليها السلام فلقيت الباب مغلقاً وإذا أنا بالرحى تطحن البر وهي تدور من غير يد تديرها ورأيت مهد الحسين يهتز من غير يد تهزه ورأيت كفاً يسبح الله تعالى قريباً من كف ( فاطمة الزهراء ) عليها السلام,
ولم أر شخصاً فتعجبت من ذلك يا سيدي فقال : يا أم أيمن .... أعلمي أن ( فاطمة الزهراء ) صائمة وهي متعبة جائعة والزمان قيظ فألقى الله تعالى عليها النعاس فنامت فسبحان من لا ينام فوكل الله ملكاً يطحن عنها قوت عيالا وأرسل الله ملكاً آخر يهز مهد ولدها ( الحسين ) لئلا يزعجها من نومها ووكل الله ملكاً آخر يسبح الله عز وجل قريباً من كف ( فاطمة الزهراء ) عليها السلام يكون ثواب تسبيحه لها لأن ( فاطمة ) لم تفتر عن ذكر الله فإذا نامت جعل الله ثواب تسبيح ذلك الملك ( لفاطمة ) عليها السلام.
فقلت يا رسول الله أخبرني من يكون الطحان؟ ومن الذي يهز مهد ( الحسين ) ويناغيه ؟ ومن المسبح.
فتبسم النبي ضاحكاً وقال : أما الطحان : فجبرائيل وأما الذي يهز مهد ( الحسين ) فهو ميكائيل وأما الملك المسبح فهو إسرافيل.
و هذا كان المصداق البارز للذكر الكثير.

روايات عن الأئمة (ع)في فضل الذكر الكثير
وردت روايات عن الأئمة عليهم السلام يظهر من خلالها عظم ثواب هذا التسبيح-الذي يتكوّن من التكبير والتحميد والتسبيح -وعلو مقام صاحبته السيدة فاطمة عليها السلام ولكي يتضح الأمر نورد هذه الرواية ونورد ما يفسّرها. نذكر هنا بعضها بالاستعانة بالأحاديث والروايات التالية:
1. روي عن الإمام الباقر عليه السلام: «ما عُبد اللَّه بشي‏ء من التحميد أفضل من تسبيح فاطمة، ولو كان شي‏ء أفضل منه لنحلهُ رسول اللَّه (صل الله عليه واله وسلم) فاطمة ( عليها السلام )» .
2. قال الصادق ( عليه السلام ): «من سبح تسبيح فاطمة الزهراء عليها السلام قبل أن يُثني رجليه من صلاة الفريضة غفر اللَّه له، وليبدأ بالتكبير» .
3. قال الصادق ( عليه السلام ): تسبيح فاطمة الزهراء في كلّ يوم من دُبر كلّ صلاة أحبُّ إلىَّ من صلاة ألف ركعة في كلّ يوم   . 
4. قال أبو جعفر ( عليها السلام ): «من سبّح تسبيح فاطمة عليها السلام ثم استغفر غُفر له، وهي مائة باللسان، وألف في الميزان، ويطرد الشيطان ويرضي الرحمن»  .
5. روي عن الإمام الباقر عليه السلام أنه قال: «ما عُبد الله بشيء من التحميد أفضل من تسبيح فاطمة عليها السلام، ولو كان شيء أفضل منه لنحلهُ رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فاطمة عليها السلام» .
6. قال الإمام أبو عبد الله الصادق عليه السلام: «من بات على تسبيح فاطمة عليها السلام كان من الذاكرين لله كثيراً والذاكرات» .
7. قال الإمام الباقر (عليه السلام): (مَن سَبَّحَ تسبيح الزهراء (عليها السلام) ثُمَّ استغفرَ ، غُفِرَ لَهُ ، و هي مِائَة باللِّسان ، و ألفٌ في الميزان ، وَ تطردُ الشيطان ، و تُرضِي الرَّحمن) .
8. قال الإمام الباقر ( عليه السلام ) أنه قال : ( مَا عُبِدَ الله بِشيء مِن التَمْجِيد أَفضَل مِن تَسبِيحِ فَاطمَة ( عليها السلام )) .
9. قال الإمام الباقر ( عليه السلام ): ( إن رسولَ الله ( صلى الله عليه وآله ) قال لفاطمة ( عليها السلام ) : ( يَا فاطمةَ ، إذا أخذتِ مَضجعَكِ من اللَّيل فَسَبِّحي الله ثلاثاً و ثلاثين ، و احمديهِ ثلاثاً و ثلاثينَ ، و كَبِّريهِ أربعاً وثلاثين ، فَذلِكَ مِائَة هي أثقل في الميزانِ مِن جَبَلِ أُحُد ذَهَباً ) .
10 سُئِلَ أبو الحسن علي بن أبي طالب عن معنى التسبيح فأجاب (عليه الصلاة والسلام): «هو تعظيم اللَّه عزّ وجلّ وتنزيهه عما قال فيه كل مشرك...» .
11. روى عبدالله بن سنان، عن الإمام الصادق عليه السلام حيث قال: من سبّح تسبيح فاطمة في دبر المكتوبة من قبل أن يبسط رجليه أوجب الله له الجنة  .
شرح أذكار التسبيح‏
1- اللَّه أكبر: يعني أنه أكبر وأجلّ من أن يوصف، ولا يجوز قول أنه أكبر من كل شيء فهذا المعنى يحدّد اللَّه عزّ وجلّ فقد روي عن أبي عبد اللَّه (ع) أنه قال: في جوابه لرجل يقول أن معنى اللَّه أكبر أنه أكبر من كل شيء فقال (ع): «حدّدته» فقال الرجل وكيف أقول؟ فقال (ع): « اللَّه أكبر من أن يوصف » .
2- الحمد للّه: يعني الشكر والمدح والثناء يقول الراغب الأصفهاني في مفرداته: الحمد للّه تعالى بمنزلة الثناء عليه أمام الفضيلة وهو أخص من المدح وأعم من الشكر، فكل شكر هو حمد وليس كل حمد شكراً والحمد أيضاً مدح، ولكن ليس كل مدح حمداً  .
3- سبحان اللَّه: التسبيح يعني تنزيه اللَّه سبحانه من كل صفة غير محمودة.
يقول الراغب الأصفهاني في مفرداته: السبح: المرُّ السريع في الماء وفي الهواء، يقال: سَبَحَ سبْحاً وسباحة، والتسبيح تنزيه اللَّه تعالى، وأصله المرُّ السريع في عبادة اللَّه تعالى وجعل ذلك في حبل الخير، كما حبل الأبعاد في الشر، فقيل: أبعده اللَّه» .
سُئِلَ أبو الحسن علي بن أبي طالب عن معنى التسبيح فأجاب (ع): « هو تعظيم اللَّه عزّ وجلّ وتنزيهه عما قال فيه كل مشرك…» .

فوائد تسبيح فاطمة الزهراء (عليها السلام)
لم يكن منحصراً في استحباب الدعاء في عقب الصلاة بل شمل استحبابه وعم فضله في امور عدة منها:
بعد كل صلاة فريضة
أن يُسبِّحَ الانسان بتسبيح فاطمة الزهراء عليها السلام بعد كل صلاة فريضة مباشرةً و قبل أن يثني المصلي رجله أو يبسطها، أي يبدأ بتسبيح فاطمة عليها السلام و هو على هيئة المصلي و على جلسته بعد التسليم، فقد رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ أنَّهُ قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام: "مَنْ‏ سَبَّحَ‏ تَسْبِيحَ‏ فَاطِمَةَ الزَّهْرَاءِ عليها السلام قَبْلَ أَنْ يَثْنِيَ رِجْلَيْهِ مِنْ صَلَاةِ الْفَرِيضَةِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، وَ لْيَبْدَأْ بِالتَّكْبِيرِ" .
و في رواية أخرى عن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام، قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ:‏ "مَنْ‏ سَبَّحَ‏ تَسْبِيحَ‏ فَاطِمَةَ فِي دُبُرِ الْمَكْتُوبَةِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَبْسُطَ رِجْلَيْهِ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ الْجَنَّةَ"  
عند طلب قضاء الحاجة
روى المفضل بن عمر عن أبي عبد الله عليه السلام قال: إذا كانت لك حاجة إلى الله وصقت بها ذرعا، فصل ركعتين فإذا سلمت كبر الله ثلاثا، وسبح تسبيح فاطمة عليها السلام، ثم اسجد وقل مائة مرة: يا مولاتي فاطمة أغيثيني، ثم ضع خدك الايمن على الارض، وقل مثل ذلك، ثم عد إلى السجود وقل ذلك مائة مرة وعشر مرات واذكر حاجتك فإن الله يقضيها .
شفاء من الأمراض
للشفاء من الأمراض، فقد رُوِيَ أنَّهُ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام وَ كَلَّمَهُ فَلَمْ يَسْمَعْ كَلَامَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، وَ شَكَا إِلَيْهِ ثِقْلًا فِي أُذُنَيْهِ.
فَقَالَ لَهُ: "مَا يَمْنَعُكَ، أَوْ أَيْنَ أَنْتَ مِنْ تَسْبِيحِ‏ فَاطِمَةَ عليها السلام"؟!
فَقَالَ لَهُ: جُعِلْتُ فِدَاكَ، وَ مَا تَسْبِيحُ‏ فَاطِمَةَ؟
فَقَالَ: "تُكَبِّرُ اللَّهَ أَرْبَعاً وَ ثَلَاثِينَ، وَ تُحَمِّدُ اللَّهَ ثَلَاثاً وَ ثَلَاثِينَ، وَ تُسَبِّحُ اللَّهَ ثَلَاثاً وَ ثَلَاثِينَ، تَمَامَ الْمِائَةِ".
قَالَ: فَمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ إِلَّا يَسِيراً حَتَّى ذَهَبَ عَنِّي مَا كُنْتُ أَجِدُهُ  .
طرد الشيطان، و طلب الغفران من الله و الحصول على رضوانه
قد رُويَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام‏: "مَنْ‏ سَبَّحَ‏ تَسْبِيحَ‏ فَاطِمَةَ عليها السلام ثُمَّ اسْتَغْفَرَ غُفِرَ لَهُ، وَ هِيَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَ أَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ، وَ تَطْرُدُ الشَّيْطَانَ وَ تُرْضِي الرَّحْمَنَ"  .
عند النوم
عن أبي بصير قال: إذا أويت إلى فراشك فاضطجع على شقك الايمن، وقل: " بسم الله وبالله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله صلى الله عليه وآله اللهم إني أسلمت نفسي إليك، ووجهت وجهي إليك وفوضت أمري إليك، وألجأت ظهري إليك، رهبة ورغبة إليك، لا ملجا ولا منجا منك إلا إليك، اللهم آمنت بكل كتاب أنزلته وبكل رسول أرسلته ثم تقرء: قل هو الله أحد والمعوذتين وآية الكرسي ثلاث مرات وآية السخرة، وشهد الله، وإنا أنزلناه في ليلة القدر إحدى عشر مرة ثم تكبر أربعا وثلاثين مرة وتسبح ثلاثا وثلاثين مرة وتحمد ثلاثا وثلاثين مرة، وهو تسبيح الزهراء فاطمة عليها السلام الذي علمها رسول الله صلى الله عليه وآله. ثم قل: " لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، يحيى ويميت، وهو حى لا يموت، بيده الخير وهو على كل شئ قدير " ثم تقول: " أعوذ بالله الذي يمسك السماء أن تقع على الارض إلا باذنه، من شر ما خلق ذرء وبرء وأنشأ وصور، ومن شر الشيطان وشركه وقومه، ومن شر شياطين الانس والجن، أعوذ بكلمات الله التامة من شر السامة والهامة واللامة والحاصة. 
و روي القول عند المنام من تسبيح الزهراء فاطمة عليها السلام عن أبي جعفر الطوسي، عن علي بن أبي جيد، عن محمد بن الحسن بن الوليد، عن الشيخ جعفر بن سليمان فيما رواه في كتاب ثواب الاعمال قال: قال أبو عبد الله عليه السلام: إذا أوى أحدكم إلى فراشه ابتدره ملك كريم وشيطان مريد، فيقول له الملك: اختم يومك بخير وافتح ليلك بخير، ويقول له الشيطان: اختم يومك باثم وافتح ليلك باثم، قال: فان أطاع الملك الكريم وختم يومه بذكر الله، وفتح ليله بذكر الله إذا أخذ مضجعه وكبرالله أربعا وثلاثين مرة، وحمد الله ثلاثا وثلاثين مرة، وسبح الله ثلاثا وثلاثين مرة زجر الملك الشيطان، فتنحى وكلاه الملك حتى ينتبه من رقدته، فإذا انتبه ابتدره شيطانه فقال له: مثل مقالته قبل أن يرقد ويقول له الملك مثل ما قال له قبل أن يرقد، فان ذكر الله عزوجل العبد بمثل ما ذكره أولا طرد الملك شيطانه فتنحى وكتب الله عزوجل له بذلك قنوت ليلة   .
من كتاب المشيخة عن أبي عبد الله عليه السلام قال: إذا كان يتفزع يقول عند النوم: " لا إله إلا الله وحده لا شريك له، يحيى ويميت ويميت ويحيى وهو حي لا يموت " عشر مرات، ويسبح تسبيح الزهراء فانه يزول ذلك  .
عند الخروج من المنزل فانه حافظ لقارئه
عن الثمالي ، عن أبي جعفر الباقرعليه السلام : «من قال حين يخرج من منزله : بسم الله ، حسبي الله، توكلت على الله ، اللهم إني أسألك خير اموري كلها، وأعوذ بك من خزي الدنيا وعذاب الاخرة . كفاه الله ما أهمه ، من أمر دنياه وآخرته» .
وروي أنه إذا وقف على باب داره سبح تسبيح الزهراء عليها السلام وقرء الحمد وآية الكرسي كما قدمناه وقال: " اللهم إليك وجهت وجهي وعليك خلفت أهلي ومالي وما خولتني وقد وثقت بك فلا تخيبني يا من لا يخيب من أراده، ولا يضيع من حفظه، اللهم صل على محمد وآل محمد واحفظني فيما غبت عنه، ولا تكلني إلى نفسي يا أرحم الراحمين، اللهم بلغني ما توجهت له، وسبب لي المراد، وسخر لي عبادك وبلادك، وارزقني زيارة نبيك ووليك أمير المؤمنين عليه السلام والائمة من ولده وجميع أهل بيته عليه وعليهم السلام، ومدني منك بالمعونة في جمع أحوالي، ولا تكلني إلى نفسي، ولا إلى غيري، فأكل وأعطب، وزودني التقوى، واغفر لي في الاخرة والاولى، اللهم اجعلني أوجه من توجه إليك. ويقول أيضا: " بسم الله وبالله وتوكلت على الله واستعنت بالله، وألجأت ظهري إلى الله، وفوضت أمري إلى الله، رب آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت، لانه لا يأتي بالخير إلهي إلا أنت، ولا يصرف السوء إلا أنت عز جارك، وجل ثناؤك، وتقدست أسماؤك، وعظمت آلاؤك، ولا إله غيرك " فقد روي أن من خرج من منزله مصبحا ودعا بهذا الدعاء لم يطرقه بلاء حتى يمسي ويؤب إلى منزله، وكذلك من خرج في المساء ودعا به لم يطرقه بلاء حتى يصبح ويؤب إلى منزله .
شروط التسبيح
1. التوجه والخشوع في التسبيح
الخشوع هو شرط مهم في جميع العبادات حتى المستحبة منها وفي تسبيح الزهراء عليها السلام بالطبع مؤكد وبدون الخشوع يصبح التسبيح لقلقة لسان ولا يستفيد الشخص من بركاته لأن قلبه لا يتوجه إلى الله عزّ وجل ولا يحصل على الكمال ما دام قلبه مشغولاً عن ذكر الله تعالى.
يقول الإمام الخميني (رحمه الله) عن الآداب القلبية لتسبيح فاطمة عليها السلام: "كما ذكرت في آداب التسبيحات الأربعة يجب في تسبيح فاطمة أيضاً التبتل والتضرّع والانقطاع والتذلل في القلب، ومع التكرار يتعوّد القلب على هذه الحال وإيصال الذكر من اللسان إلى القلب حتى يذوب القلب في الذكر والتوجه إلى اللَّه" .
2.الموالاة في التسبيح
أي عدم الفصل والقطع بين الأذكار وهذا سرٌ من أسرار هذا التسبيح المبارك يروي الشيخ الكليني في كتابه فروع الكافي،
عن يعقوب بن يزيد عن محمد بن جعفر عن أبي عبد اللَّه عليه السّلام: (أنه كان يسبح تسبيح فاطمة صلى الله عليها فيصله ولا يقطعه). 
3.المباشرة بالتسبيح بعد الصلاة
ومن شروط التسبيح الإتيان به مباشرة بعد الفراغ من الصلاة أي بعد التسليم مباشرة ولهذا أسرارٌ وفوائد أيضاً.
يقول الشيخ البهائي في هذا الشأن: (… وليكن جلوسك في التعقيب متّصلاً بجلوسك في التشهد وعلى تلك الهيئة من الاستقبال، والتورّك، واترك في أثنائه الكلام والتلفت ونحوهما، فقد روي «أن ما يضرّ بالصلاة يضرّ بالتعقيب») .
4.من شك في التسبيح
يبني على الأقل إن لم يتجاوز المحل، فلو سها فزاد على عدد التكبير أو غيره رفع اليد عن الزائد وبنى على (34) أو (33)، والأولى على نقص واحدة ثم يكمل العدد بما في التكبير والتحميد دون التسبيح  .
قال الإمام الصادق عليه السلام: «إذا شككت في تسبيح فاطمة الزهراء(س)فأعده»  .
يستحب التسبيح بالسبحة المتخذة من تربة الحسين عليه السلام.
قال الإمام الصادق عليه السلام: «من أدار سبحة من تربة الحسين عليه السلام مرة واحدة بالاستغفار أو غيره كتب الله له سبعين مرة».  


الخاتمة
الحقيقة أنَّ الله سبحانه وتعالى في القرآن الكريم يأمرنا فيقول :(يأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ ذِكۡرٗا كَثِيرٗا*وَسَبِّحُوهُ بُكۡرَةٗ وَأَصِيلًا) 
قال : إِنَّنِيٓ أَنَا ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعۡبُدۡنِي وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ لِذِكۡرِيٓ  ) .
 الذِكرُ منشور الولاية الذي من أُعطيه اتصل ، ومن مُنعه عُزل ، من أُعطيَّ الذِكرَ اتصلَّ بالله عزّ وجل , ومن مُنعه عُزل ، وهو قوت القلوب التي متى فارقها , صارت الأجساد لها قبوراً .
 القلب دون ذِكرٍ لله عزّ وجل الجسم قبرٌ له ، ميتٌ في ميت ، الذِكرُ عِمارة الديار , داركَ لا تحيا إلا بذكر الله , فإذا انعدمَ منها الذِكرُ , أصبحت داراً ميتةً كالقبر التي إذا تعطلت صارت بوراً ، الذِكر سلاح المؤمن , الذي يقاتل به قُطّاعَ الطريق , فإذا خلا من سلاحه , أصبحَ عُرضةً للقتلِ من قِبل قطاع الطريق ، بالذكر تطفئ حريق الشوق إلى الله عزّ وجل ، بالذِكرِ يكون الذِكرُ دواءً لقلبكَ اللهفان .
و حينما ننظر إلى النسبة هذا الذكر إلى مولاتنا فاطمة الزهراء عليها السلام بنت محمد (ص)نجد أهميته أكثر فالأكثر ,لأن نعم الوسيلة إلى الله سبحانه وتعالى في الدعا هو وسيلة  فاطمة الزهراء عليها السلام, أن الله سبحانه و تعالى لا يرتد السائل خاليا,حينما السائل يسأل الله بوسيلتها فيتوجهوا المعصومين عليهم السلام إليه.
لهذا علينا أن نتمثل هذا الذكر في جميع أبعاد حياتنا لكي نتلبس بلباس هذا الذكر و ننال بركات هذا الذكر في حياة الدنيا و الآخرة.
 فعلى المؤمن أن يُكثر من ذكر الله سبحانه وتعالى. وجل كثيرا.




Saturday, 6 May 2017

اسرائیلیات در تفسیر



اسرائيليات در تفسیر



 از: ملک محمد سبطين اكبر 

تعريف  لغوی و اصطلاحی اسرائيليات و تفسیر_
آغاز ورود اسرائيليات به تفسير قرآن كريم_
عوامل پيدايش و گسترش اسرائيليات در تفسیر_
عوامل پيدايش اسرائيليات: _
 ارتباط مسلمانان با اهل كتاب_
عظمت علمي اهل كتاب نسبت به اعراب_
 وجوه اشتراك متون ديني يهود با قرآن كريم_
. حس كنجكاوي مسلمانان_
 حذف اسناد روايات و خوش بيني نسبت به اهل_
 كتاب
 كينه توزي و سوء نيّت يهودي_
 ممنوعيت نگارش و نقل_ 
 ميدان دادن دستگاه خلافت به داستان سراى_
نمونه‌ای از اسرائیلیات در تفسر_
راویان اسرائیلیات در تفسیر_
تفاسیر آمیخته با اسرائیلیات
آثار و پیامدهاى اسرائیلیات در تفسیر_
آمیخته شدن تفسیر و حدیث صحیح اسلامى  خرافات_ فساد


در اين تحقیق سعی شده است که تعريف اسرائيليات و آشنايى به مصادر آن و عوامل و زمينه‏ هاى نفوذ اسرائيليات به تفسیر را بررسى كنيم.
به هر جهت ‏بحث اسرائيليات در تفسیر و تاثيرات آن كه هر انسان دردمند و دلسوزى را دچار تاسف شديد می ‏كند. متاسفانه اسرائيلياتى كه در آثار مختلف تفسيرى، روايى راه يافته سبب گرديده است تا دشمنان شناخته شده و يا ناشناخته اسلام با دستاويز قرار دادن اين مجعولات و گاه با بزرگنمايى و شاخ و برگ دادن به آنها، به درونی ‏ترين نقاط حرم اسلام پاى تجاوز گذارند و حريم مقدس آن را مورد هجوم و تبليغات مسموم خود قرار دهند. ونفوذ اسرائیلیات در تفسیردر عصرصحابه افزوده شد و آن عبارت بود از اخبار اهل کتاب (یهود). برخی از پژوهشگران معاصر اخبار اهل کتاب را از منابع تفسیر در عصر صحابه شمرده اند  ،اما دلیل قابل قبولی بر مراجعه صحابه در تفسیر قرآن به اهل کتاب در حد گسترده در دست نیست.

کلمات کلیدی : اسرائيليات.تفسیر.
تعريف  لغوی و اصطلاحی اسرائيليات و تفسیر 
معناي لغوي اسرائيليات
واژه (اسرائيليات) جمع اسرائيليه است: کلمه اسرائیل واژه عبری است. به معنای «غلبه بر خدا»است  ؛ این واژه مرکب است از «اسراء» به معنای پیروزی و چیره شدن و «ئیل» به معنای قدرت تام و تمام که لقب خداست،‌
اما اکثر مفسران کلمه «اسرا» را به معنای «عبد» و «ئیل» را به معنای «اله» گرفته‌اند واسرائیل یعنی «عبدالله»،
معناي اصطلاحي اسرائيليات
در اصطلاح گاهي در معنايي ويژه, فقط بر آن دسته از رواياتي اطلاق مي گردد كه صبغه ي يهودي دارد  
دكتر محمد حسين ذهبى در معناى اسرائيليات تعريف جامعى ارائه می ‏دهد و می ‏گويد: «واژه اسرائيليات گرچه ظاهرا نشانگر نفوذ فرهنگ يهود در تفاسير می ‏باشد ليكن مقصود ما از اسرائيليات مفهومى گسترده ‏تر و فراگيرتر از اين است و آن عبارتست از تاثير پذيرى تفاسير از فرهنگ يهودى و مسيحى و غلبه رنگ اين دو فرهنگ - و مانند آنها - بر تفاسير. اما از آنجا كه از صدر اسلام تا زمان عالمگير شدن آن همواره يهوديان بيش از سايرين با مسلمانان معاشرت داشته و از نظر تعداد هم بيش از هم قطاران خود بوده ‏اند بدين جهت - در مقايسه با مسيحيت و ساير فرقه ‏ها - بيشترين تاثير را در تفاسير (و ساير منابع اسلامى) بر جاى گذارده ‏اند) 
تفسیر در لغت و اصطلاح
معنی لغوی تفسیر
تفسیر، دانش‌ شرح‌ و تبیین‌ آیات‌ قرآن‌  
معنی اصطلاحی تفسیر
علامه طباطبايي(ره) مي‌فرمايند: تفسير عبارت است از: بيان كردن معناي آيه‌هاي قرآن و پرده‌برداري از اهداف و مقاصد و مدلول آيات  
آغاز ورود اسرائيليات به تفسير قرآن كريم
برخي از نويسندگان, آغاز پيدايش و نفوذ اسرائيليات در تفسير به عهد صحابه دانسته و يكي از منابع تفسيري را نيز (اهل كتاب) شمرده اند. دكتر ذهبي ضمن بيان اين مطلب مي نويسد: صحابه وقتي به طور طبيعي به داستانهاي قرآني برخورد مي كردند, دوست داشتند درباره ي زواياي پيچيده و پنهان آن, كه قرآن متعرض آن نشده است, پرس و جو كنند؛ ولي به جز يهوديان تازه مسلمان, كسي را كه پاسخگوي آنان باشد, نمي يافتند؛ از اينرو بسياري از اخبار و اطلاعات را از آنان دريافت مي كردند. 
به نظر مي رسد به دليل نهي آشكار پيامبر اكرم (ص) از مراجعه به اهل كتاب ونسخه برداري از نوشته هاي آنان, هيچ يك از صحابه در زمان حيات پيامبر(ص) به خود اجازه نمي دادند كه به آنان رجوع يا مطالبي را از آنان اقتباس و نقل كنند . گرچه بيشتر مورخان و مفسران, عصر صحابه راعصر پيدايش اسرائيليات و نفوذ آنها در تفسير و حديث و به ويژه در تاريخ دانسته و مرجع اصلي, بلكه يگانه مرجع عرب ها در آن زمان را براي شناخت احوال و سرگذشت امّت هاي گذشته و پيامبران الاهي, تورات و اهل كتاب دانسته اند, اين نظر نادرست است؛ زيرا تنها كساني از صحابه به اهل كتب مراجعه مي نمودند كه از نظر علمي داراي بضاعت اندكي بودند و از اينرو, متأثر و فريفته ي سخنان آنان مي شدند. علّامه سيد مرتضي عسكري درباره ي تميم داري و روايات ساختگي وي مي نويسد:
اما افرادي از صحابه كه از نظر معرفت و اسلام شناسي چندان مايه اي نداشتند, همچون ابوريره و انس و عبدالله بن عمر و نيز تابعين كه مي خواستند اسلام را از زبان تميم ها بياموزند, سخنان اين عالم و راهب نصراني تازه مسلمان را گرفتند و به صورت روايت براي نسل هاي بعد نقل كردند به اين گونه, سلسله رواياتي كه در علم حديث شناسي بدان (اسرائيليات) گفته مي شود, يعني داستان هاي بني اسرائيل و آنچه در تورات و انجيل و اين گونه كتب تحريف شده ي عهد عتيق بوده است, به عالم اسلامي پا نهاد و در اين جا ماندگار شد و عنوان تفسير و حديث و تاريخ اسلامي به خود گرفت  .
از جمله شخصيت هايي كه در بين صحابه, آشكارا در برابر اين تهاجمات فرهنگي, ايستادگي كردند, مي توان امير مومنان علي (ع), ابن مسعود و ابوذر غفاري, حذيفه بن يمان و خبّاب اشاره نمود .
علّامه ي طباطبايي (ر) نيز در مقدمه ي تفسير خود, درباره ي ويژگي تفسير در دوره ي تابعان مي نويسد:
تنها تفاوت عمده اي كه از نظر روش و منابع تفسيري در دوره ي تابعان نسبت به عصر صحابه پديد آمد, اين بود كه در اين دوره رواياتي به تفسير افزوده شد كه در ميان آنها, رواياتي وجود داشت كه يهود يا ديگران به طور پنهاني وارد تفسير كردند؛ به ويژه داستان ها و معارفي كه به موضوع آفرينش باز مي گردد؛ مانند پيدايش آسمان ها و زمين, درياها, كاخ شداد, لغزش هاي پيامبران, تحريف كتاب و چيزهايي ديگر از اين نوع كه برخي از آنها در تفسير مأثور از صحابه نيز يافت مي شد. 
عوامل پيدايش و  گسترش اسرائيليات در تفسیر
بنی اسرائیل در مسایل فراوانی با هم اختلاف داشتند، قرآن درباره اختلاف آن ها داوری کرد و خرافات و افکار بی اساس رایج در میان آنان را از حقایق جدا ساخت، و از این رو فرمود:
بی شک این قرآن اکثر آن چه را که بنی اسرائیل درباره اش اختلاف دارند برای آنان حکایت می کند  .
عوامل پيدايش اسرائيليات:
1. ارتباط مسلمانان با اهل كتاب
از جمله زمينه هاي پيدايش و نفوذ اسرائيليات و انديشه هاي اهل كتاب و به ويژه يهوديان در ميان جمعيت و فرهنگ اسلامي, كوچ يهود و نصارا به سوي جزيره العرب و هم جواري مسلمانان با آنان در مدينه بوده است. يهوديان پيش از آمدن به مدينه, تاريخي پرفراز و نشيب و زندگي تلخ و طاقت فرسا و دوراني طولاني از خانه به دوشي و آوارگي و بردگي را پشت سر نهاده اند. درباره ي پيشينه ي تاريخي يهوديان در سوره ي يوسف آمده است كه حضرت يعقوب (ع) همراه با فرزندانش از فلسطين به سوي مصر هجرت نمود, محلي كه فرزندش يوسف (ع), در آن عصر وزير پادشاه بود. پادشاه مصر به خاطر يوسف (ع) سرزمين حاصلخيز و مناسبي را در مصر در اختيار آنها نهاد و تبار يعقوب (ع) در آنجا براي مدتي طولاني ماندند... , اما بعدها, (فراعنه) يهوديان را تحت شكنجه قرار مي دادند و با آنان بدرفتاري مي نمودند؛ فرزندانشان را مي كشتند و زنانشان را كنيز و خدمت كار خود قرار مي دادند, تا اينكه خداوند پيامبري ـ حضرت موسي بن عمران (ع) ـ را از ميان اين قوم براي آنان فرستاد و آنان را از ستم و بردگي آزاد كرد و از آنان خواست تا بار ديگر به سرزمين فلسطين باز گردند و با ساكنان آنجا به نبرد بپردازند و به آنان وعده ي پيروزي بر دشمن داد, اما آنان از سر ترس و زبوني, تن به جنگ ندادند و قعود را بر قيام عليه ستمگران ترجيح دادند؛ آنگاه خداوند مقدر ساخت تا چهل سال در صحراي سينا سرگردان مانده, كيفر نافرماني و سرپيچي از فرمان پيامبر و رهبري الاهي را بچشند.
در اين زمان بود كه حضرت هارون (ع) و پس از او حضرت موسي (ع) رحلت نمودند و خواهر زاده ي موسي (ع), يوشع بن نون, جانشين وي گرديد. وي حدود سيزده قرن قبل از ميلاد بر سرزمين فلسطين هجوم آورد و آنجا را به تصرف درآورد و بيشتر ساكنانش را نابود كرد و گروهي را نيز آواره و تبعيد نمود. پس از وي, خداوند, پيامبران بسياري فرستاد و در سال 596 پيش از ميلاد, پادشاه بابل ـ بختنصر ـ به فلسطين حمله برد و بر آنان سيطره يافت و بسياري را كشت و گروه زيادي را نيز به اسارت گرفت. اينان تحت حكومت بختنصر تا سال 538 پيش از ميلاد به سر بردند, تا اين كه پادشاه سرزمين فارس بر بختنصر چيره شد و يهوديان, نفسي تازه كردند و مدت دويست سال تحت فرمان روايي ايرانيان سپري كردند. پس از آن زير سيطره ي جانشينان اسكندر كبير و سپس روميان قرار گرفتند و در سال 135 پيش از ميلاد, يهوديان بر روميان شوريدند؛ ولي از شورش و انقلاب خود, نتيجه اي نگرفتند و روميان بر آنان غلبه يافتند و يامشان را آرام ساخته, آنان را از سرزمين فلسطين بيرون راندند. بدين ترتيب, در سرزمين هاي گوناگون, در شرق و غرب, سرگردان و آواره گرديدند... گروهي در مصر, گروهي درلبنان و سوريه, گروهي در عراق, گروهي نيز در حجاز مسكن گزيدند و اما سرزمين يمن, سرزمين مأنوس يهوديان بود كه آنان در عهد حضرت سليمان (ع) براي امر بازرگاني به آنجا كوچ كردند .
2.عظمت علمي اهل كتاب نسبت به اعراب
هيبت ديني يهود و نصارا (اهل كتاب)  كه پشتوانه ي فرهنگي آنان به حساب مي آمد, سبب شده بود تا عرب جاهلي كه از آن پشتوانه بي بهره بودند, آنان را برتر از خود بپندارند. آگاهي هاي وسيع يهود و نصارا از تاريخ و دانستن داستان هاي شگفت انگيز, عامل مهمي در برتري آنان بر اعراب جاهلي بوده است . ابن خلدون درباره ي سبب و انگيزه ي نقل اسرائيليات و نفوذ آنها در فرهنگ اسلامي مي نويسد:
اين امر بدان جهت است كه در آن زمان, عرب ها اهل علم و كتاب نبودند و با زندگي باديه نشيني و بي سوادي خو گرفته بودند. وقتي به شناخت چيزي تمايل پيدا مي كردند و مي خواستند مطالبي درباره ي آفرينش و اسرار جهان هستي بدانند, به (اهل كتاب) مراجعه مي كردند و از آنان بهره مي بردند. اين عده از اهل تورات كه در آن روزگار در ميان اعراب مي زيستند؛ مانند خود ايشان, باديه نشين بوده و از اين گونه مسايل به جز آنچه عامه ي اهل كتاب مي دانستند با خبر نبودند. ريشه و منبع آنها چنانكه اشاره شد, اهل تورات باديه نشين اند و آنچه را نقل مي كنند از روي تحقيق و آگاهي درست نيست؛ ولي آنان با اين وجود شهرت يافتند و كارشان بالا گرفت؛ زيرا در آيين اسلام داراي مقام والايي بودند. بدين ترتيب به تدريج از آن روزگار همه ي آن منقولات (افسانه ها) مورد قبول واقع شد. 
در سال پنجم هجري, سران قبيله ي (بني نضير) كه پس از شكست در مدينه, به خيبر پناهنده شده بودند, در مكه با قريش ديدار كردند و آنان را به جنگ عليه پيامبر اسلام ترغيب نمودند و وعده ي هرگونه ياري و همكاري در اين راه را به آنان دادند. قريش به برخي از يهود بني نضير ـ سلام بن ابي حقيق, حيي بن اخطب و كنانه بن ربيع ـ گفتند:اي يهوديان, شما پيروان كتاب اول (تورات) هستيد و از اختلاف ما با محمد اطلاع داريد؛ آيا به نظر شما دين ما بهتر است يا دين او؟ گفتند: آيين شما بهتر از آيين او است و شما به حقيقت سزاوارتريد. قريش با شنيدن اين سخن, مسرور و شادمان و نسبت به آنچه آنان را بدان فراخواندند, با نشاط و فعال شدند. 
3. وجوه اشتراك متون ديني يهود با قرآن كريم
چه بسا بتوان وجوه اشتراك زياد متون ديني با قرآن كريم را يكي از زمينه هاي بهره گيري مسلمانان از اهل كتاب دانست. قرآن كريم همانند تورات, بسياري از قضايا و تاريخ پيامبران امت هاي پيشين را بيان نموده است. همچنان كه موارد مشابه بين قرآن و انجيل به ويژه درباره ي حضرت عيسي (ع) وجود دارد, بسنده كرده است. 
گلدزيهر نيز علت تمايل مسلمانان نسبت به داستان ها و افسانه ها در تفسير قرآن را اين امر دانسته و مي نويسد:
در زمينه ي تفسير قرآن, گرايش به سوي داستان ها و افسانه ها در قلمرو ويژه اي پديد آمد. در كتابهاي پيشين, داستان هاي مختلفي آمده است كه پيامبر اسلام (ص) آنها را در نهايت اجمال و اختصار و گاه (چند داستان را ) به صورت فشرده و ادغام شده يك جا آورده است. 
علامه ي طباطبايي (ر) نيز در ذيل داستان اصحاب كهف, در بيان علت اصلي گوناگوني احاديث, علاوه بر راه يابي جعل در آنها دو مطلب را يادآوري مي كند: 
داستان, بسيار مورد توجه اهل كتاب بوده است و مسلمانان نيز در اقتباس و حفظ روايات و گسترش آنها زياده روي نموده اند و به ويژه صحابه و تابعان بسياري از اطلاعات مربوط به پيشينيان را از گروهي از دانشمندان اهل كتاب تازه مسلمان كه با آنان ارتباط و آميزش داشتند, فرا گرفته اند و با اين دسته از روايات, بسان روايات مروي از پيامبر اكرم (ص) رفتار كردند و بدين ترتيب كار مشكل شد.
4. حس كنجكاوي مسلمانان
همان طور كه پيش تر اشاره شد, اشتياق عرب ها براي شناخت علل پديده ها و راز و رمز عالم وجود آغاز آفرينش جهان و موجودات و حل مبهمات قرآن كريم زمينه اي مناسب براي دانشمندان اهل كتاب فراهم كرد تا بسياري از افسانه ها و خرافات و انديشه هاي موهوم و بي اساس را در اذهان انسان هاي ساده دل جاي دهند. از اينرو برخي از نويسندگان يكي از علل ورود اسرائيليات به انديشه هاي اسلامي را, آمادگي مسلمانان براي شنيدن اين افسانه ها, از طريق يهوديان دانسته اند. 
به عنوان مثال, يكي از افسانه هايي كه بخاري و مسلم از ابوهريره نقل كرده اند, اين است كه ابوهريره مي گويد رسول خدا (ص) فرمود:
روزي مَلَك الموت نزد موسي رفت و گفت: دعوت پروردگارت را اجابت كن! موسي, سيلي محكمي به صورت او زد و چشم او را كور كرد! فرشته نزد خدا برگشت و گفت: مرا نزد بنده اي فرستادي كه نمي خواهد بميرد و دو چشم مرا كور كرد! خداوند چشم فرشته را به حال اول برگرداند و به او گفت: نزد بنده ام برو و به او بگو اگر مي خواهي زنده بماني, دستت را بر پشت گاو نري بنه؛ به تعداد موهاي گاو كه زير دستت قرار مي گيرد, بر سال هاي عمر تو مي افزايم. چون عزرائيل به نزد موسي برگشت و جريان را به او گفت, موسي عرضه داشت: خدايا! بعد از اين همه, آخرش چيست؟ فرمود: آخرش مرگ است. عرض كرد: پس اكنون آماده ي مرگم و از خداوند خواست كه او را به زمين بيت المقدس نزديك كند و در همان جا قبض روح گردد. آنگاه رسول خدا (ص) فرمود: اگر در بيت المقدس بودم, قبر موسي را به شما نشان مي دادم كه دركنار تپّه ي شن هاي سرخ و در طرف جاده قرار گرفته است.  چنانكه ملاحظه مي شود, اين حديث از افسانه هاي قديمي و از جمله دروغ هايي است كه در ميان توده ي مردم معروف گرديده است و اثبات بطلان و نادرستي آن نيازي به دليل ندارد؛ متن حديث بهترين گواه بر ساختگي بودن آن است.
5. حذف اسناد روايات و خوش بيني نسبت به اهل كتاب
در علم حديث و درايه, اصطلاح (حديث) به موضوع سند و متن اطلاق مي شود. از اينرو براي ارزيابي صحت و سقم يك حديث, غير از بررسي محتواي آن با معيارهاي (فقه حديث), لازم است سند حديث و ميزان اعتبار و وثاقت راويان آن به دقت مورد بررسي قرار گيرد. بديهي است غفلت و مسامحه در هيچ بخشي از آنها جايز نيست و چه بسا ممكن است اين غفلت يا مسامحه, پيامدهاي ناگواري در پي داشته باشد.
تلاش محدثان و فقيهان در نقل دقيق روايات و ذكر كامل سلسله ي سند آن, براي پيش گيري از جعل و تحريف در نصوص ديني است. در روايتي از امام صادق (ع) آمده است كه امير مومنان (ع) فرموده اند: چون حديثي براي شما گويند, در مقام نقل, آن را به گوينده اش نسبت دهيد؛ زيرا اگر راست باشد به سود شما است و اگر دروغ باشد, به زيان گوينده ي آن است. 
ابن خلدون ضمن اشاره به آفات و ضعف هاي تفسير نقلي و راه يابي روايات اسرائيلي به تفاسير, مي گويد: چون آنچه از يهوديان و اهل كتاب تازه مسلمان نقل شده, مربوط به احكام شرعي نبوده است, راويان و مفسران, دقت و احتياط لازم را به عمل نياورده اند, بلكه با سهل انگاري و تسامح, كتاب هاي تفسيري را از آنها انباشته اند. 
دكتر ذهبي روايتي را از مقدمه ي صحيح مُسلم نقل مي كند كه ابن سيرين گفته است: در دوره ي صحابه, از اسناد احاديث سئوال نمي كردند, اما وقتي فتنه و آشوب برخاست, گفتند: راويان خود را براي ما نام ببريد . 
علامه ي طباطبايي (ر) ضمن بيان روش تفسيري عامه درباره ي گروهي از مفسران آنان مي نويسد: طبقه ي پنجم كساني هستند كه روايات را با حذف اسناد در تأليفات خود درج كردند و به مجرد نقل اقوال قناعت نمودند. بعضي از علما گفته اند كه اختلال نظم تفسير از همين جا شروع گرديد و اقوال زيادي در تفاسير بدون مراعات صحّت و اعتبار نقل و تشخيص سند, به صحابه و تابعان نسبت داده شد . وي يكي از علل مهم گسترش روايات اسرائيلي را سهل انگاري و بي دقتي برخي مفسران و اعتماد بيش از حد آنان به روايات و پذيرش بي ملاك آنها دانسته اند.  
مهم ترين مشكل و پيامد ناگواري كه اسقاط سند احاديث در پي داشت, اين بود كه راه تحقيق در منبع اين منقولات مسدود گرديد. بسياري از بزرگان اهل سنت در توجيه عملكرد صحابه و تابعان به اين بهانه متوسل شدند كه رواياتي كه از عالمان يهود گرفته شده, مربوط به احكام شرعي نبوده است تا نياز به احتياط و دقت در آنها باشد , در عين حال, مي توان اعتراف ضمني آنان را در مورد سهل انگاري و خوش باوري از راويان و اهل تفسير در سخنانشان مشاهده كرد. 
نكته ي قابل توجه در اين مبحث اين است كه پيش از رجوع به اين قبيل منقولات, بايد در متن قرآن كريم دقت كرد و آنچه از آن داستان ها با آن سازگار است, با قيد احتياط پذيرفت و آنچه با آن مخالف است, رد نمود و اين دستور كلي است كه از طرف ائمه اهل بيت عليهم السلام درباره ي تشخيص احاديث صحيح از سقيم صادر شده است. در اين مورد تفاوتي ميان روايات صحابه و تابعان و روايات كتاب هاي معتبر نيست.  
استاد محمد هادي معرفت در اين باره مي نويسد:ارزش خبر واحد د رمورد تفسير و حديث, تنها به متن حديث است, نه سند آن. بنابراين اگر مضمون و محتواي حديث توانست ابهامي را در مسئله اي برطرف سازد, آن متن گواه بر صدق و راستي حديث خواهد بود و در غير اين صورت, هيچ دليلي بر تعبد به خبر واحد وجود ندارد. 
6. كينه توزي و سوء نيّت يهود
گرچه مي توان همه ي دانشمندان اهل كتاب و راويان روايات اسرائيلي را كه به آيين اسلام گرويده اند, به سوء نيت و كذب عليه اسلام متهم كرد.قرآن كريم قوم يهود را سرسخت ترين دشمن مسلمانان معرفي كرده, اهل ايمان را نسبت به نيرنگ ها و نقشه هاي شوم آنان هشدار مي دهد:
(لَتَجدنَّ أَشدَّ النّاسِ عَداوهً لِلَّذينَ آممنوا اليهودَ وَالَّذينَ أَشركوا)  
به يقين دشمن ترين مردم نسبت به مومنان را يهود و مشركان خواهي يافت.
به علاوه چنانكه گذشت, آنان پيش از ظهور اسلام در شهر مدينه از موقعيت اجتماعي و اقتصادي قابل توجهي برخوردار بودند و پس از اقامت پيامبر (ص) در مدينه, احساس خطر جدي كردند و در حقيقت موقعيت خود را از دست دادند. به اين سبب, درصدد حيله گري و توطئه عليه مسلمانان برآمدند و در اين امر با مشركان نيز دست دوستي و همراهي دادند. بنابراين جامعه ي اسلامي و مسلمانان همواره از گذشته ي تاريخ تاكنون هر لحظه در انتظار حيله و نيرنگ تازه اي از سوي آنان بوده اند. استاد محمود ابوريّه يكي از علل اصلي پيدايش اسرائيليات را مكر و حيله دانشمندان يهود و نصارا و تظاهر آنان به اسلام دانسته اند.
استاد مصطفي حسين ضمن بيان سخن ابن خلدون درباره ي پيدايش اسرائيليات و نفوذ آن به انديشه ي ديني مسلمانان, در مورد كعب الاحبار و امثال وي مي نويسد: نقل اسرائيليات توسط آنان نه از سر سوء نيّت بوده, بلكه اين امر صرفاً مبتني بر پرسش ها و پاسخ هاي دوجانبه و ارضاي انگيزه هاي طبيعي اعراب جاهلي در مورد شنيدن داستان ها بوده است.
ذهبي نيز پس از بيان كلام احمد امين و محمد رشيدرضا و محمود ابوريه مبني بر متهم بودن كعب به نيرنگ و دروغ با تكلف زياد تلاش مي كند تا به هر نحو ممكن ساحت كعب را تطهير نمايد 
چنانكه ملاحظه مي شود, برخي در مقام تبرئه دانشمندان نوآيين اهل كتاب و توجيه عملكرد و گفته هاي آنان برآمده, تلاش مي كنند تا ساحت آنان را ازسوء نيّت و دروغ عمدي پاك سازند؛ در حالي كه دست كم در مورد كعب الاحبار در روايات فراواني به دروغ پردازي وي تصريح و يا اشاره شده است. از برخوردهاي تند و شديد شخصيت هايي, نظير ابن عباس, علي (ع), امام صادق(ع) و امام باقر (ع) و ابوذر غفاري و ... در مورد گفته هاي كعب الاحبار, به دست مي آيد كه نقل داستان ها و اخبار ساختگي از سوي برخي از اهل كتاب, با سوء نيت و شيطنت همراه بوده است. به عنوان مثال, به موارد زير توجه فرماييد:
1) به ابن عباس خبر داده شد كه نوف بكالي, فرزند همسر كعب الاحبار, معتقد است كه موسايي كه يار و همراه خضر بوده, غير از موسي بن عمران است. ابن عباس گفت: دروغ گفته است دشمن خدا. 
2)ابن جرير طبري روايتي را درباره ي ذبيح بودن اسماعيل از ابن عباس نقل كرده است كه مضمون آن, اتهام يهود به دروغ پردازي است.   
7. ممنوعيت نگارش و نقل حديث
يكي از رخدادهاي تلخ تاريخ صدر اسلام, جريان ممنوعيت نگارش و نقل روايات پيامبر اكرم (ص) است كه به دستور خلفا به ويژه خليفه ي دوم پديد آمده است.
منع نگارش حديث موجب شد ميدان براي نشر و گسترش اسرائيليات باز شود و احاديث درست و ساختگي درهم آميخته گردد. با گذشت زمان, كار تشخيص و جداسازي احاديث صحيح از سقيم, مشكل تر شد. استاد ابوريه در اين زمينه به تفصيل به بحث و بررسي پرداخته و خطر و زيان نفوذ انديشه هاي انحرافي يهود را به فرهنگ اسلامي گوش زد كرده است. 
استاد جعفر سبحاني نيز در اين باره مي نويسد:اسلام و مسلمانان در اثر منع نگارش حديث و نشر آن, خسارت بزرگي را متحمل شدند كه با آمار و ارقام قابل شمارش نيست. چگونه قابل شمارش باشد, در حالي كه اين امر موجب پيدايش هرج و مرج در اعتقادات, اعمال, اخلاق, آداب و حتي جوهره و كنه دين و اصول آن گرديده است. خلأ حاصل از اين عمل, زمينه ي مناسبي را براي پيدايش بدعت هاي يهودي و ياوه هاي مسيحي و افسانه هاي زردشتي, به ويژه از سوي دانشمندان يهود و نصارا به وجود آورد تا احاديث فراواني را جعل كنند و آنها را به پيامبران الاهي نسبت دهند, همچنان كه افسانه هايي را ساختند و به پيامبر اكرم (ص) نسبت دادند. 
برخي از اهل تحقيق گفته اند كه تصميم مهم خليفه ي دوم, عمر, در جلوگيري از كتابت حديث رسول خدا (ص) به خاطر پيروي از اهل كتاب بوده است 
8. ميدان دادن دستگاه خلافت به داستان سرايان
يكي از ريشه هاي اصلي و علل مهم نشر و گسترش اسرائيليات و احاديث جعلي در ميان مردم, شيوع قصه خواني و آزادي عمل داستان سرايان در پناه دستگاه خلافت خلفا و دولت اموي بوده است. آزادي عمل قصه خوانان در شرايطي بوده است كه نگارش و نقل احاديث و سنت پيامبر اكرم (ص) از سوي خلفا, به ويژه با فرمان رسمي خليغه ي دوم, منع شده بود. در دوره ي صحابه و تابعان و پس از آنان, كساني كه در حوادث گذشته و تاريخ انبيا و خلقت و امثال آن بدون سند متصل به پيامبر اكرم (ص) سخن مي گفتند و سخنانشان نوعي شباهت ظاهري با داستان هاي قرآن داشت, به (قصاص) مشهور شدند.  منبع اصلي قصّه خوانان را تورات و نقل هاي شفاهي رايج درميان عالمان يهودي و نصراني تشكيل مي داد.
گفته شده است كه قصّه خواني در زمان پيامبر اكرم (ص) و ابوبكر وجود نداشته و از زمان خليفه ي دوم با اجازه ي او آغاز گرديده و به تدريج ادامه و گسترش يافته است.
رواج داستان سرايي در زماني بوده است كه قصّه خوانان و پندآموزان, دين و بارهاي ديني را دست مايه ي تجارت خود ساخته, حديث را وسيله اي براي امرار معاش خود و برآوردن خواسته هاي حاكمان قرار داده بودند. بدين ترتيب, آنان بسياري از افسانه هاي ملت هاي پيش از اسلام, به ويژه داستان هاي تاريخي ـ ديني يهوديان را به نام تفسير قرآن و به قصد تخريب و يا تحريف مباني اعتقادي, در لابه لاي تعاليم اسلامي و تفاسير قرآني جاي دادند. حركت داستان سرايان با گذشت زمان گسترش يافت و زمام داران نيز آنان را براي اهداف سياسي خود به كارگماشتند. برخي از نويسندگان نخستين قصّه سرا را, عبدالله بن رواحه و برخي تميم داري و عدّه اي نيز عبيد بن عُمير دانسته اند؛ ولي نام آورترين آنان همان, تميم بن اوس داري است. 
نخستين زمامداري كه قصه خوانان را براي اهداف سياسي خود به كار گرفت, معاويه بن ابي سفيان بود. او مردي را مأمور ساخت تا پس از اقامه ي نماز صبح براي نمازگزاران داستان بگويد و اين مرد نيز هر روز پس از نماز رو به نمازگزاران مي كرد و خدا را ياد مي نمود و بر پيامبر خدا (ص) درود مي فرستاد و سپس براي خليفه, خاندان, سپاه و پيروان او دعا مي كرد و دشمنان خليفه و كساني را كه فرمانبري او را نپذيرفته بودند, نفرين مي نمود . 
چنانكه ملاحظه شد, در ميان خلفا, عمر و معاويه بيش از ديگران به دانشمندان اهل كتاب تمايل داشته, آنان را در نقل داستان هاي تاريخي تورات و افسانه هاي خرافي آزاد گذارده اند؛ بلكه در زمان معاويه بيشترين جعل حديث در فضيلت سازي براي حكام و جلوگيري از نشر فضايل اهل بيت پيامبر اكرم (ص) صورت گرفت و نيز بهترين شيوه ي بني اميه براي دور نگه داشتن مردم از مسايل مهم سياسي ـ اجتماعي و انحراف اذهان آنان, بهره گيري از روايات ساختگي دانشمندان يهود و نصارا بوده استخليفه ي دوم نسبت به تميم داري بسيار احترام مي كرد و از او با عبارت (خيرُ اهل المدينه) ياد مي نمود. و به وي اجازه داده بود پيش از نماز جمعه, براي مردم سخن بگويد و خود نيز به شنيدن سخنان وي علاقه نشان مي داد. همچنين كعب الاحبار, دانشمند بزرگ يهودي, از جمله كساني است كه بسيار مورد توجه خليفه ي دوم بوده است.
از اين روايات بر مي آيد كه اهل كتاب به ويژه كعب تلاش كرده اند تا آيين اسلام و مقدسات آن, از جمله كعبه, را در برابر آيين يهود خاضع و تسليم نشان دهند .
نمونه‌ای از اسرائیلیات در تفسیر
سیوطی در «درّ المنثور» در تفسیر کلمه «ق» در اول سوره «ق» از ابن ابی حاتم از ابن عباس چنین روایت کرده است: «خدای تعالی در ورای این زمین دریایی خلق کرده محیط بر زمین، و در پشت آن دریای محیط، کوهی است که به آن «کوه قاف» آسمان دنیا می‌گویند، که آن دریا را پوشانده است. و در ورای آن کوه، زمین دیگری مثل همین زمین، ولی هفت برابر بزرگتر آفریده است. و در ماورای آن زمین دریای محیطی به آن و در ورای آن دریا کوهی دیگر به نام قاف آسمان دوم و محیط بر آن دریا آفریده است. و همچنین شمرده تا به هفت زمین و هفت دریا و هفت کوه و آسمان رسید. آنگاه گفت: «و این است معنای آیه «وَالْبَحْرُ یَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ» .
راویان اسرائیلیات در تفسیر
چنان که قبلا اشاره کردیم بیش تر راویان اسرائیلیات در تفسیر، از تابعین بودند. از میان صحابه، در این زمینه، از عبدالله بن عمروبن عاص می توان یاد کرد.
 سیوطی می نویسد: از عبدالله بن عمروبن عاص مطالبی مربوط به داستان ها و اخبار فتنه ها و عالم آخرت و امثال این ها نقل شده که به نظر می رسد از اهل کتاب شنیده است نظیر آن چه در تفسیر آیه «فی ظلل من الغمام»  از وی نقل شده است   .
از تابعین وهب بن منبه و مجاهد از این گروه بودند. از مقاتل بن سلیمان نیز درگروه بعد از تابعین می توان نام برد. برخی از محققان تعداد بیش تری را در این گروه جای داده اند; علامه شیخ جواد بلاغی می نویسد: در تفسیر و اسباب نزول، مراجعه به امثال عکرمه، مجاهد، عطا و ضحاک که احادیث مرسل آنان کتاب های تفسیر را پرکرده است بر هیچ مسلمانی جایز نیست و کسی در امر دین در چنین کاری معذورنمی باشد زیرا اقوال آنان اگر فرضا روایت باشد، روایات مرسل و مقطوع است و هرگزحجت نیست.  
درباره مجاهد و مقاتل یادآوری می کنیم که این هر دو، از نظر دانشمندان علم رجال متهم به اخذ مطالب از اهل کتاب هستند .
علامه طباطبائی می نویسد:روایات، از طریق شیعه و اهل سنت، چه از پیامبر اسلام وچه از ائمه اهل بیت:، بر این تفسیر (شفاعت) اتفاق دارند   .
ابن حبان گفته است: مقاتل، از علم قرآن آن چه مطابق کتاب های یهود و نصارا بود، از آنان فرا می گرفت.او خدا را به مخلوق تشبیه می کرد  .
او از مشبهه بوده است چنان که ابو حنیفه گفته است:
«جهم » در نفی تشبیه افراط کرد و مقاتل در اثبات [اعضای جسمانی برای خداوند]،به طوری که خدا را مثل مخلوق معرفی کرد   .
او روایتی به این مضمون نقل کرده است: روز قیامت، گوینده ای [از جانب خدا]ندا می کند: کجاست حبیب خدا [محمد]؟، در این هنگام حبیب خدا صفوف فرشتگان را می شکافد و به عرش می رسد، خداوند او را در عرش در کنار خود زانو به زانو می نشاند  .
این معنا بی شباهت به تفسیر مجاهد درباره آیه شفاعت نیست!.
تفاسیر آمیخته با اسرائیلیات
دکتر محمد حسین ذهبی از میان بیش از چهل تفسیرکه همه را به تفصیل از ابعاد گوناگون مورد بررسی و ارزیابی قرار داده، چندتفسیر را آمیخته با اسرائیلیات شناخته و روشن کرده است که مولفان آن ها بیش ازمفسران دیگر، اسرائیلیات را وارد تفسیر کرده اند  .
این تفاسیر که از تفاسیر اهل سنت است عبارت است از:
1. جامع البیان فی تفسیرالقرآن تالیف ابوجعفر محمدبن جریرالطبری (م 310 ق).
2. لباب التاءویل فی معانی التنزیل تالیف ابوالحسن علی بن محمد بن ابراهیم،مشهور به خازن (م 741 ق).
آثار و پیامدهاى اسرائیلیات در تفسیر
ورود و نفوذ اسرائیلیات در تفسیر ، آثار سوء فراوانى را در پى داشت كه عمده‌ترین آن‌ها عبارت است از:
آمیخته شدن تفسیر و حدیث صحیح اسلامى با خرافات
روایات اسرائیلى چون به ‌طور عمده ساخته دست یهود و جاعلان حدیث بود، هیچ ‌گونه تطبیقى با واقعیت نداشت و این امر سبب آمیختگى روایات صحیح و غیرصحیح (نقل عقاید باطل اسرائیلى و انتساب آن به پیامبر اسلام و دیگران باعث شد تا برخى از مذاهب اسلامى بدون تحقیق، این روایات را پذیرفته و آن‌ها را به ‌صورت عقیده و مذهب خود برگزینند. عقیده به جسم بودن خداوند، معصوم نبودن پیامبران و‌... را مى‌توان ره‌آورد این ‌گونه روایات دانست شد  .
فساد و انحراف در عقاید مسلمانان
نقل عقاید باطل اسرائیلى و انتساب آن به پیامبر اسلام و دیگران باعث شد تا برخى از مذاهب اسلامى بدون تحقیق، این روایات را پذیرفته و آن‌ها را به ‌صورت عقیده و مذهب خود برگزینند. عقیده به جسم بودن خداوند، معصوم نبودن پیامبران و‌... را مى‌توان ره‌آورد این ‌گونه روایات دانست.   
 مشوّه كردن چهره اسلام
ورود اسرائیلیات به فرهنگ اسلامى باعث شد تا عده‌اى اسلام را دینى خرافى جلوه دهند و بگویند: اسلام مى‌كوشد پیروانش را با تعالیم پوچ و واهى كه با هیچ معیار عقلى سازگارى ندارد، سرگرم سازد. چنان‌ كه برخى مستشرقان، بعضى از این ‌روایات را از منابع اسلامى استخراج كرده و با ترویج آنها درصدد بدنام كردن اسلام و ضربه زدن به آن هستند . 
نتیجه‌ بحث
متأسفانه در اثر خوش‌باوری برخی مفسران و مورخان مسلمان، بیش‌ترین روایات اسرائیلی به منابع تفسیری و تاریخی اهل سنت نفوذ کرده و در اثر غفلت و سهل‌انگاری دانشمندان شیعی، به بعضی از منابع تفسیری شیعه نیز راه یافته است.
دانشمندان و محققان به نام شیعی، به خاطر توجه خاص و اعتماد به سیره معتبر قولی و عملی اهل‌ بیت پیامبر علیهم‌السلام به‌ندرت در دام راویان اهل کتاب و روایات آنان گرفتار آمده، و لذا کم‌ترین روایات اسرائیلی را در تفاسیر خود آورده‌اند.
با مطالعه دقیق در اسناد روایات تفسیری و نمونه‌های اسرائیلیات ارائه شده، این حقیت آشکار می‌گردد که در تمام کتب، کم‌ و‌بیش ردپای برخی دانشمندان اهل کتاب یا متأثر از آنان دیده می‌شود. به‌عنوان نمونه می‌توان به تفسیر الدرّ المنثور، جلال‌الدین سیوطی، و جامع‌ البیان طبری مراجعه نمود. ضمناً برای یافتن مصادیق اسرائیلیات در تفسیر آیات به کتاب‌های نظام حقوق زن در اسلام، استاد شهید آیت‌الله مطهری، جنایات و تاریخ، استاد سید جعفر شهیدی و تفسیر المیزان در تفسیر سوره‌های ابراهیم و صافات پیرامون ذبیح‌الله که اسماعیل است نه اسحاق مراجعه نمود. 
منابع

1. قران الکریم
2. آلاءالرحمن، قم، مکتبه الوجدانی، ص 45.
3. میزان الاعتدال، 173; تاریخ بغداد، خطیب بغدادی، بیروت، دارالکتاب العربی.
4. محمد حسين طباطبايي:الميزان في تفسير القرآن, بيروت, موسسه الاعمي, 139ق, .
5. محمد بن يعقب كليني: الاصول من الكافي, با تصحيح و تعليق علي اكبر غفاري, چاپ پنجم, تهران, دارالكتب الاسلاميه, 1363 ش.
6. محمد بن يعقب كليني: الاصول من الكافي, 1363 ش
7. التفسير و المفسرون، محمد حسين الذهبى .
8. التفسیر والمفسرون، معرفت
9. محمد تقي دياري: پژوهشي در باب اسرائيليات در تفاسير قرآن
10. راغب اصفهانی ، مقدمه تفسیر راغب
11. جلال الدين سيوطي: الاتقان في علوم القرآن, با تحقيق محمد ابوالفضل ابراهيم, قم, منشورات الشريف الرضي
12. جامع البيان عن تاويل آي القرآن (تفسير طبري)
13. محمد بن اسماعيل بخاري: صحيح البخاري1401 قف
14. محمد حسين طباطبايي: قرآن در اسلام, چاپ پنجم, قم, دفتر انتشارات اسلامي, 
15. محمد بن جرير طبري: جامع البيان عن تاويل آي القرآن (تفسير طبري), چاپ اول, بيروت, دارالكتب العلميه
16. سيد جعفر مرتضي عاملي: الاسرائيليات در تاريخ طبري, كيهان انديشه (نشريه ي موسسه ي كيهان درقم)
17. میزان الاعتدال
18. شيخ صدوق : كتاب الخصال, با تصحيح و تعليقه ي علي اكبر غفاري, قم, موسسه النشر الاسلامي
19. جعفر سبحاني: ابحاث في الملل و انحل, چاپ دوم, قم, مركز مديريت حوزه علميه
20. التفسير و المفسرون، محمد حسين الذهبى

امامت کا فلسفہ

امامت کا فلسفہ - محمد سبطین اکبر تحقیقی مقالہ — ایم اے سطح امامت کا فلسفہ شیعہ نقطہ نظر سے امام کے وجود...